اداریہ ۴ ستمبر ۲۰۲۶

صادق عمرانی کے مبینہ الزامات اور اسمبلی قرارداد: حقیقت سامنے آنا ضروری

بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر صادق عمرانی سے منسوب بعض مبینہ الزامات اور اس کے بعد منظور ہونے والی قرارداد نے ایک ایسے معاملے کو جنم دیا ہے جس میں جذبات سے زیادہ حقیقت جاننے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی نجی یا اجتماعی نشست میں بلوچستان کے عوام، بلوچ و پشتون یا کسی دوسرے طبقے کے بارے میں کوئی نامناسب بات کی گئی تھی تو یقیناً اس کی وضاحت ہونی چاہیے، لیکن اس وضاحت کا بہترین راستہ مکمل حقیقت کو سامنے لانا ہے، نہ کہ مبینہ گفتگو کے ایک حصے کو بنیاد بنا کر پورے معاملے کو سیاسی یا لسانی رنگ دے دیا جائے۔ اسمبلی کا فلور عوامی اعتماد کی علامت ہے، اس لیے وہاں کسی ایسے معاملے کو اٹھاتے وقت مکمل شواہد، سیاق و سباق اور حقائق کی دستیابی بنیادی تقاضا ہونا چاہیے۔

اس معاملے میں اسمبلی قرارداد لانے کی ضرورت اس وقت کم محسوس ہوتی ہے جب اصل نشست کی مکمل ویڈیو موجود ہو سکتی ہے۔ اگر میزبان پوری نشست کی ویڈیو بلا تاخیر منظرِ عام پر لے آئے تو چند لمحوں میں یہ واضح ہو سکتا ہے کہ حقیقتاً کیا کہا گیا، کس تناظر میں کہا گیا، کس نے کہا اور کس بات کو کس انداز میں سمجھا گیا۔ مکمل ویڈیو کے بجائے اگر صرف مبینہ گفتگو، مختصر کلپ یا کسی ایک فریق کی تشریح سامنے آئے تو اس سے غلط فہمی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا الزام جو ابتدا میں محض مبینہ تھا، مسلسل سیاسی ردعمل اور قرارداد کے باعث عوامی سطح پر حقیقی تاثر اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے، کیونکہ نامکمل معلومات سے بننے والا بیانیہ بعد میں حقیقت کی جگہ لے لیتا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی نیا سیاسی یا لسانی بیانیہ تشکیل پانے سے پہلے میزبان اپنی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے پوری نشست کی ویڈیو اور متعلقہ مواد عوام کے سامنے رکھے۔ اگر صادق عمرانی نے واقعی کوئی ایسی بات کہی ہے جو بلوچستان کے کسی طبقے، قوم یا شہری کی توہین کے زمرے میں آتی ہے تو مکمل ریکارڈ اس کی واضح تصدیق کرے گا اور پھر اس پر مناسب پارلیمانی و قانونی کارروائی کا حق بھی موجود ہے۔ لیکن اگر مکمل نشست سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ الفاظ کو سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا گیا تو پھر غلط فہمی دور کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہوگا۔ بلوچستان پہلے ہی حساس سیاسی، قومی اور لسانی معاملات سے دوچار ہے؛ ایسے ماحول میں اسمبلی کے وقار کا تقاضا ہے کہ ایوان کو افواہوں، نامکمل اطلاعات اور مبینہ گفتگو کی بنیاد پر نئے تنازعات پیدا کرنے کے بجائے تحقیق، مکالمے اور مکمل حقیقت سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے۔