مقامی ۲۴ مئی ۲۰۲۶

شیرانی ستنو راغہ میں جائز مطالبات کے حق میں جاری عوامی دھرنا 52 ویں روز میں داخل

شیرانی(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)ضلعی ہیڈ کوارٹر شیرانی میر علی خیل(ستنو راغہ) کے مقام پر اہلیانِ شیرانی و حریفال کی جانب سے اپنے پانچ جائز مطالبات کے حق میں اور متعلقہ ذمہ دار حکام کے خلاف جاری عوامی دھرنا بان ویں (52) روز میں داخل ہو گیا ہے۔ دھرنے میں شریک قبائلی عمائدین، نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے مطالبات کے حق میں بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر دھرنے کے سربراہ ملک عطا اللہ خان شیرانی، حاجی فیاض خان شیرانی اور دیگر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جائز مطالبات نہ ماننے کا حکومتی فیصلہ علاقے کے عوام کے جذبات، تاریخی حیثیت اور زمینی حقائق کے سراسر برعکس ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔دھرنے کے شرکا نے اپنے پانچ بنیادی مطالبات دہراتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:1۔ ٹانک روڈ کے باقی ماندہ حصے کو فوری طور پر پختہ کیا جائے۔2۔ علاقے میں لینڈ سیٹلمنٹ کی منظوری دی جائے۔3۔ ضلع میں مزید نئی تحصیلوں کا اعلان کیا جائے۔4۔ انزرخیزی روڈ کو ہیڈ کوارٹر ستنو راغہ تک مکمل کیا جائے۔5۔ ضلعی انتظامیہ کو مستقل بنیادوں پر ژوب شہر سے ہیڈ کوارٹر ستنو راغہ منتقل کیا جائے اور متعلقہ حکام وہاں رہائش بھی اختیار کریں۔مقررین نے دوٹوک مقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک ان کے یہ جائز اور عوامی مفاد سے وابستہ مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک دھرنا پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا اور احتجاج کو مزید مثر بنانے کے لیے آئندہ کے سخت لائحہ عمل پر بھی غور شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ وقت سے مطالبہ کیا کہ عوامی احساسات کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے میں پائی جانے والی شدید بے چینی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔