سید انور شاہ
قوموں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی پیدا ہوتی ہیں جو محض سیاسی رہنما نہیں ہوتیں بلکہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ شہید عثمان خان کاکڑ بھی اسی قبیل کی شخصیت تھے۔ انہیں قریب سے دیکھنے اور مختلف مواقع پر ان کے ساتھ نشست و برخاست کا موقع ملا تو یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ عثمان کاکڑ ایک فرد نہیں بلکہ فکری وحدت کا مجموعہ تھے۔ ان کی شخصیت میں علم، شعور، انسان دوستی، قومی وابستگی، جمہوری مزاحمت اور وسیع النظری اس طرح یکجا تھیں کہ وہ اپنے عہد کے منفرد رہنما دکھائی دیتے تھے۔
عثمان کاکڑ کی سب سے نمایاں خوبی ان کا انسانوں سے تعلق کا انداز تھا۔ وہ ہر ملنے والے شخص سے اس طرح ملتے جیسے اس سے کچھ سیکھنے اور حاصل کرنے آئے ہوں۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک خاص روشنی اور تازگی نمایاں رہتی تھی۔ ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں میں جستجو، چہرے پر مسکراہٹ، پیشانی پر وقار اور کانوں میں سننے کا غیر معمولی حوصلہ محسوس ہوتا تھا۔ وہ بولنے سے زیادہ سننے کے قائل تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مختلف طبقات، مختلف قومیتوں اور مختلف نظریات سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ان کے قریب خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتے تھے۔
قوم پرستی کے نام پر سیاست کرنے والے بہت سے لوگ تاریخ میں گزرے ہیں، لیکن حقیقی قوم پرست وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم کے حقوق کی جدوجہد کو انسانیت کے وسیع تر مفاد سے جوڑ دے۔ عثمان خان کاکڑ اسی معیار پر پورا اترتے تھے۔ وہ پشتونوں کے سیاسی، آئینی اور معاشی حقوق کے مضبوط وکیل تھے، لیکن ان کی جدوجہد کبھی تنگ نظری یا نسلی تعصب کا شکار نہیں ہوئی۔ وہ بلوچ، سندھی، سرائیکی، کشمیری اور ملک کی تمام مظلوم قومیتوں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھی اسی درد اور اخلاص کے ساتھ آواز بلند کرتے تھے جس طرح اپنی قوم کے لیے کرتے تھے۔ ان کے نزدیک ظلم، ظلم تھا اور مظلوم، مظلوم؛ خواہ اس کی زبان، نسل یا جغرافیہ کچھ بھی ہو۔
عثمان کاکڑ کی قوم پرستی دراصل انسان دوستی کی اعلیٰ شکل تھی۔ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے تھے کہ قوموں کی عزت اور ترقی انصاف، جمہوریت، تعلیم اور شعور کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے نوجوان نسل کو نفرت کے بجائے مکالمہ، تشدد کے بجائے دلیل اور مایوسی کے بجائے امید کا راستہ دکھایا۔ ان کی محفلیں صرف سیاسی گفتگو تک محدود نہیں ہوتی تھیں بلکہ تاریخ، فلسفہ، ادب، عالمی سیاست اور انسانی حقوق کے موضوعات سے بھی روشن رہتی تھیں۔ وہ نوجوانوں کو کتاب سے جوڑنے والے رہنما تھے اور یہی ان کی سب سے بڑی قومی خدمت تھی۔
اگر اس صدی کے آغاز میں اس خطے کے ان رہنماؤں کی فہرست مرتب کی جائے جنہوں نے تاریکیوں میں روشنی کا کردار ادا کیا تو عثمان خان کاکڑ کا نام نمایاں طور پر سامنے آئے گا۔ وہ ایک ایسی شمع تھے جو نامساعد حالات، سیاسی جبر، محرومیوں اور ناانصافیوں کی تاریک رات میں جلتی رہی۔ انہوں نے اپنے وجود کو جلا کر عوام کے سامنے شعور، امید اور مزاحمت کی روشنی رکھی۔ انہوں نے آنے والی نسلوں کو بتایا کہ قوموں کی نجات نفرت سے نہیں بلکہ علم، اتحاد، جمہوریت اور مسلسل جدوجہد سے ممکن ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زندگی میں بڑے ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ عظیم تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ عثمان خان کاکڑ ان رہنماؤں میں شامل ہیں جن کا قد ان کی رحلت کے بعد مزید بلند ہوا۔ ان کی شہادت نے ان کے نظریات کو کمزور نہیں کیا بلکہ انہیں مزید زندہ اور توانا بنا دیا۔ آج بھی جب ان کا نام لیا جاتا ہے تو پشتون وطن کے نوجوانوں، جمہوریت پسند حلقوں اور مظلوم طبقات کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن جاگ اٹھتی ہے۔
شہید عثمان خان کاکڑ اس خطے کی سیاسی تاریخ کے ان درخشاں کرداروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا، جنہوں نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی اور جنہوں نے عوامی خدمت کو سیاست کا اصل مقصد سمجھا۔ وہ ایک ایسی روشن شمع تھے جس نے تاریک رات میں بھٹکے ہوئے قافلوں کو راستہ دکھایا، اور پھر اپنی ذمہ داری پوری کرکے نہایت وقار کے ساتھ اپنے ابدی مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔
آج ان کی یاد محض ایک سیاسی رہنما کی یاد نہیں بلکہ ایک فکری روایت، ایک جمہوری مزاحمت اور ایک حقیقی قوم پرست رہنما کی یاد ہے۔ ان کا نام آنے والی نسلوں کے لیے اس پیغام کے ساتھ زندہ رہے گا کہ قوموں کی خدمت انسانیت کی خدمت سے جدا نہیں ہوتی، اور جو لوگ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں وہ جسمانی طور پر رخصت ہونے کے باوجود تاریخ اور عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ شہید عثمان خان کاکڑ پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے افکار و جدوجہد کو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنائے۔ آمین۔
