اداریہ ۱۹ جون ۲۰۲۶

شکریہ نیشنل پارٹی شکریہ رحمت صالح بلوچ۔ پرنٹ میڈیا کا تحفظ، بلوچستان کی تاریخ اور جمہوری مستقبل کا تقاضا

یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کے بیورو دفاتر کو بچانے اور صحافیوں کے روزگار کے تحفظ کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یقیناً میڈیا اداروں کا استحکام اور صحافیوں کا معاشی تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم اسی تناظر میں یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر چند بیورو دفاتر کے تحفظ کے لیے اقدامات ضروری سمجھے جا سکتے ہیں تو پھر پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہزاروں تعلیم یافتہ جن میں صحافی، مدیران، کمپوزرز، ڈیزائنرز، پریس ورکرز، اخبار فروشوں اور دیگر کارکنوں کے روزگار کا تحفظ کیوں نظر انداز کیا جائے؟ ایک طرف چند درجن ملازمتوں کو بچانے کی کوشش اور دوسری جانب ہزاروں خاندانوں کے روزگار اور ایک تاریخ کو خطرے میں ڈال دینا کسی طور دانشمندانہ پالیسی نہیں کہلا سکتا۔

بلوچستان کا پرنٹ میڈیا محض کاروباری اداروں کا مجموعہ نہیں بلکہ بلوچ اور پشتون قومی جدوجہد، سیاسی شعور، جمہوری اقدار اور فکری مزاحمت کا تاریخی ورثہ ہے۔ ریاستی ادوار سے لے کر برٹش بلوچستان، ون یونٹ کے خلاف تحریکوں، جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد اور صوبائی حقوق کی آواز بلند کرنے تک پرنٹ میڈیا نے ایک تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ اس ورثے کو کمزور کرنا یا اس کے وجود کو خطرے میں ڈالنا درحقیقت ایک پوری تاریخ کو نذرِ آتش کرنے کے مترادف ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کے لیے اشتہارات اور مالی معاونت کا وہی فارمولا اختیار کیا جائے جو ملک کے دیگر صوبوں میں رائج ہے۔ ترقیاتی بجٹ کے تناسب سے پرنٹ میڈیا کے لیے مناسب حصہ مختص کیا جائے تاکہ اخبارات معاشی طور پر مستحکم رہ سکیں اور عوام تک معلومات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ بلوچستان کے مخصوص حالات اور اس کی جغرافیائی و سماجی حقیقتوں کو نظر انداز کرکے یکطرفہ فیصلے نہ صرف میڈیا بلکہ عوامی مفاد کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اسی طرح یہ معاملہ محض کابینہ کے اجلاسوں یا انتظامی فیصلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بلوچستان اسمبلی، جو صوبے کے عوام کی نمائندہ اور بالادست جمہوری فورم ہے، اسے اس مسئلے پر اپنا واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ اسمبلی میں پرنٹ میڈیا کے تحفظ، آزادیٔ صحافت اور اشتہارات کی شفاف تقسیم کے حق میں متفقہ قرارداد پیش کی جائے تاکہ یہ پیغام جائے کہ بلوچستان کے منتخب نمائندے اپنے تاریخی صحافتی اداروں کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی سمیت تمام سیاسی، مذہبی، قوم پرست اور جمہوری قوتیں خراجِ تحسین کی مستحق ہیں جنہوں نے پرنٹ میڈیا کے تحفظ کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا اور اس کے حق میں آواز بلند کی۔ بالخصوص رکنِ بلوچستان اسمبلی رحمت صالح بلوچ کی جانب سے اسمبلی کے سبزہ زار پر آزادیٔ اظہارِ رائے اور میڈیا کے تحفظ کے لیے قرارداد لانے کا اعلان نہ صرف پرنٹ میڈیا، صحافتی برادری بلکہ تمام جمہوری حلقوں کے جذبات کی ترجمانی ہے۔

آج ضرورت محاذ آرائی کی نہیں بلکہ مشاورت، شفافیت اور انصاف کی ہے۔ اگر بلوچستان کے تاریخی پرنٹ میڈیا کو بچا لیا گیا تو دراصل ایک صحافتی صنعت نہیں بلکہ صوبے کی اجتماعی یادداشت، جمہوری روایت اور فکری ورثہ محفوظ ہوگا۔ اور اگر اسے نظر انداز کیا گیا تو آنے والی نسلیں شاید اس سوال کا جواب تلاش کرتی رہیں گی کہ بلوچستان کی صحافتی تاریخ کو خاموش کرنے کا فیصلہ آخر کس نے اور کیوں کیا تھا۔۔