چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے مغربی علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے ایک واضح قومی حکمت عملی اپنائی۔ بیجنگ نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جدید شاہراہوں، ریلوے، صنعت، تعلیم، توانائی اور بنیادی سہولیات کے ذریعے مغربی چین کو مشرقی اور وسطی علاقوں کے قریب لانے کی کوشش کی۔ یہی نہیں بلکہ چین نے اپنی طویل المدتی معاشی اور تزویراتی حکمت عملی کے تحت میانمار میں بھی سرمایہ کاری کی تاکہ خلیجِ بنگال تک رسائی حاصل ہو، آبنائے ملاکہ اور بحیرہ جنوبی چین پر انحصار کم کیا جا سکے اور مغربی چین کی ترقی کو نئی جہت ملے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کا محور بنایا جاتا ہے، نہ کہ انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔
پاکستان کو بھی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی صورت میں ایک تاریخی موقع ملا تھا۔ یہ منصوبہ بنیادی طور پر ان علاقوں کے ذریعے وجود میں آیا جہاں طویل عرصے سے بنیادی ڈھانچے، صنعت، تعلیم اور روزگار کی کمی رہی، جن میں گلگت بلتستان، خیبر پختونخوااور بلوچستان شامل ہیں۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ سی پیک کے ثمرات اور اس سے جڑی بڑی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ پہلے سے نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں کی جانب منتقل ہوگیا، جبکہ راہداری کے اصل جغرافیائی راستے پر واقع کئی علاقے مطلوبہ رفتار سے ترقی نہ کر سکے۔ اس احساسِ محرومی نے کئی خطوں میں بے چینی کو جنم دیا، جس کے سماجی، معاشی اور امن و امان سے متعلق اثرات بھی سامنے آئے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر مستقبل کی منصوبہ بندی میں علاقائی توازن کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں چین کے تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکجز، صنعتی زونز، جدید شاہراہوں، تعلیمی و طبی سہولیات، مقامی روزگار اور معدنی وسائل کی شفاف ترقی پر توجہ دیں تو نہ صرف علاقائی تفاوت میں کمی آسکتی ہے بلکہ عوام کا ریاست پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا، سی پیک کے مقاصد کو نئی تقویت ملے گی اور ملک میں امن، استحکام اور قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہوگا۔ مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں ترقی کا معیار چند شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ ہر صوبہ، ہر خطہ اور ہر شہری خود کو قومی ترقی میں برابر کا شریک محسوس کرے۔
