بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے گھروں سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹ انتہائی چشم کشا اور قابلِ مذمت ہے۔ 134 ہزار سے زائد تصدیق شدہ متاثرہ خاندانوں کے باوجود ہاؤسنگ منصوبے کو تقریباً 69 ہزار گھروں تک محدود کرنا، فنڈز کو دوسرے منصوبوں کی طرف منتقل کرنا اور عالمی مالی معاونت کا خاتمہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس کی مکمل وضاحت ضروری ہے۔ اگر گھروں کی تکمیل کے بارے میں غلط اعداد و شمار پیش کیے گئے یا ریکارڈ میں ردوبدل ہوا تو یہ معمولی انتظامی غلطی نہیں بلکہ متاثرین کے حق اور عوامی اعتماد کا معاملہ ہے۔
حکومت اور منصوبہ بندی کمیشن کے مؤقف میں موجود تضاد بھی فوری تحقیقات کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوجائے کہ کسی افسر، ٹھیکیدار یا متعلقہ ادارے کے اہلکار نے غلط رپورٹنگ، جعلی دعووں، ایک ہی گھر کی مد میں بار بار ادائیگی یا تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ صرف چند اہلکاروں کی قربانی دے کر معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پورے انتظامی سلسلے اور ان اداروں کا تعین ہونا چاہیے جہاں نگرانی اور احتساب کی ذمہ داری ادا نہیں کی گئی۔
بلوچستان میں محرومی اور بدامنی کے اسباب کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر سرکاری وسائل میں دانستہ بدعنوانی یا شہریوں کے حقوق میں مجرمانہ غفلت ثابت ہوتی ہے تو ایسے عناصر ریاستی نظام پر عدم اعتماد اور بدامنی کو تقویت دینے کے ذمہ دار تصور ہوں گے۔ انہیں سیاسی یا انتظامی اثرورسوخ کی بنیاد پر تحفظ دینا مزید نقصان دہ ہوگا۔ البتہ کسی فرد کو بدامنی کا ذمہ دار قرار دینے سے پہلے آزادانہ تحقیقات اور ناقابلِ تردید شواہد ضروری ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریکارڈ کا آزادانہ مالیاتی اور فرانزک آڈٹ کرایا جائے، ہر گھر کی زمینی اور سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے تصدیق کی جائے اور متاثرین کی فہرستیں عوام کے سامنے لائی جائیں۔ جو حق دار ہیں انہیں ان کا گھر ملنا چاہیے اور جو لوگ اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنے ہیں، ان کا تعین کرکے قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔
سیلاب متاثرین کے گھر کسی حکومت کا احسان نہیں، ان کا حق ہیں۔ اس حق میں خیانت کرنے والوں کا احتساب ہی آئندہ ایسے منصوبوں کو لوٹ مار، غلط رپورٹنگ اور انتظامی مداخلت سے محفوظ بنا سکتا ہے۔
