مقامی ۲۴ مئی ۲۰۲۶

سرکاری اداروں کی نجکاری حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی نے فیصلہ مسترد کر دیا

کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)کے سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری اور سابقہ ضلعی انفارمیشن سیکریٹری نسیم جاوید ہزارہ نے سرکاری اداروں، بالخصوص سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے عمل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے حکومت کی ناکامی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہسپتالوں کو پرائیویٹ اداروں کی تحویل میں دینے کا فیصلہ شدید مہنگائی اور بیروزگاری کے کچلے ہوئے غریب عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کی سازش ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔بی این پی کے رہنماں کا کہنا تھا کہ صحت اور تعلیم کسی بھی انسانی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں یہ محکمے حکومت کی زیرِ نگرانی چلائے جاتے ہیں، مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے اور نئے ہسپتال و اسکول قائم کرنے کے بجائے پہلے سے موجود اداروں کو بیچ کر اپنی عوام دشمنی ثابت کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئٹہ کے باچا خان ہسپتال کو پرائیویٹائز کرنے کی مصدقہ اطلاعات اور سول ہسپتال کے ٹراما سینٹر کو بند کرنے کی افواہوں سے عوام میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ کوئٹہ کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج ایک عام اور غریب انسان کی پہنچ سے باہر ہے۔ بی این پی نے مطالبہ کیا ہے کہ نجکاری کا عمل فوری معطل کر کے مزید سرکاری سہولیات فراہم کی جائیں، بصورتِ دیگر عوام کے حقوق کے لیے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔