کوئٹہ (صداقت انٹرنیشنل) ڈی آئی جی بلوچستان عمران شوکت نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ کوئٹہ میں قتل ہونے والے 23 افراد میں سے 21 افراد کا قتل ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا جبکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے سخت سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں۔ اپنے دفتر میں ایس ایس پی عبدالستار، ایس ایس پی غفور حسین اور دیگر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 4 مئی کو پودگلی چوک کے قریب مددگار موبائل ہزاره ٹاؤن نے ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا، گاڑی نہ رکنے پر پولیس فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت سفیر احمد ولد طاہر نصیر کے نام سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ شفاف انکوائری کے بعد اے ایس آئی راز محمد، کانسٹیبل دلاور خان اور ڈرائیور عدنان کو قصوروار قرار دے کر ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ یکم مئی کو ایگل اسکواڈ کے اہلکاروں کے خلاف رشوت طلب کرنے اور نوجوان آفتاب احمد کو قتل کرنے کی شکایت موصول ہوئی تھی، جس پر انکوائری کمیٹی نے تینوں اہلکاروں کو قصوروار قرار دیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ عمران شوکت نے کہا کہ عوام اگر پولیس کے رویے، رشوت ستانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق شکایت رکھتے ہیں تو پولیس ویب سائٹ، آن لائن فورم یا 15 پر کال کرکے شکایت درج کرائیں اور ثبوت کی صورت میں ویڈیو بھی فراہم کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سالہ مغوی بچے مزمل کو بازیاب کرلیا گیا ہے جبکہ ایک خاتون کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ گزشتہ ماہ سے اب تک 150 تھریٹس موصول ہوئے ہیں اور دہشتگرد اپنے طریقہ کار بدل رہے ہیں تاہم پولیس جرائم پیشہ عناصر، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ شہر میں منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر اور بداخلاقی پھیلانے والے گروہوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کی جائیں گی۔
