اداریہ ۲۸ جون ۲۰۲۶

سبی۔ہرنائی شاہراہ اور ریلوے: انگریز کی دور اندیشی، پاکستانی حکمرانوں کی غفلت یا ترجیحات کا بحران؟

برصغیر میں برطانوی حکومت کے سیاسی مقاصد اپنی جگہ، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ انہوں نے مستقبل کی عسکری، تجارتی اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچستان میں ریلوے کا ایسا جال بچھایا جس کے فوائد ہونے صدیاں گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوئے۔ سبی سے ہرنائی اور وہاں سے کوئٹہ تک ریلوے لائن کی تعمیر اسی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ اس وقت بولان کے دشوار گزار راستے کے متبادل کے طور پر ہرنائی کا راستہ نہ صرف زیادہ محفوظ سمجھا جاتا تھا بلکہ فوجی نقل و حرکت، معدنی وسائل کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی انتہائی اہم تصور کیا جاتا تھا۔بعد ازاں یہی ریلوے نظام ژوب، چمن اور تفتان کی سمت بھی وسعت اختیار کرتا گیا ۔ اور اسے افغانستان تک پھیلا ے کا منصوبہ تھا۔تاکہ بلوچستان اور خطے کے دیگر ممالک ایک دوسرے سے مربوط رہیں اور خطے کی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ انگریز اپنے مفادات کے لیے منصوبے بنا رہے تھے، لیکن ان منصوبوں میں مستقبل کی ضروریات کا ادراک بھی نمایاں تھا۔ افسوس کہ قیامِ پاکستان کے بعد انہی تاریخی راہداریوں کی حفاظت، توسیع اور جدید خطوط پر بحالی پر وہ توجہ نہ دی جا سکی جس کی ضرورت تھی۔

سبی۔ہرنائی ریلوے ٹریک کئی برسوں سے مختلف وجوہات، خصوصاً سیاسی ،قدرتی آفات، سکیورٹی مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ اسی طرح سبی اور ہرنائی کے درمیان زمینی رابطہ بھی بدستور مسائل کا شکار ہے۔ صرف تقریباً 90 کلومیٹر کے فاصلے کے باوجود عوام کو کویٹہ کے راستے تقریبا چار سو کلومیٹر کا طویل چکر لگا کر سفر طے کرنا پڑتا ہے، جس سے وقت، ایندھن اور وسائل تینوں کا بے پناہ ضیاع ہوتا ہے۔ مریضوں، طلبہ، سرکاری ملازمین، تاجروں اور عام شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب پورا ملک موٹرویز، ایکسپریس ویز اور اقتصادی راہداریوں کی بات کر رہا ہے تو سبی اور ہرنائی جیسے تاریخی اور معاشی لحاظ سے اہم راستے کی بحالی وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں مستقل ترجیح کیوں نہیں بن سکی؟ اگر ریلوے لائن اور شاہراہ کی بحالی پر بروقت سرمایہ کاری کی جاتی تو نہ صرف عوام کو سہولت ملتی بلکہ ہرنائی، شاہرگ، زیارت اور ملحقہ علاقوں کی معدنی، زرعی اور تجارتی معیشت بھی نئی زندگی حاصل کر سکتی تھی۔ اس سلسلے میں کچھ حلقے خصوصا پشتون یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ماضی میں انتظامی حدود میں ہونے والی تبدیلیوں نے سبی ڈویژن اور اس سے منسلک علاقوں کی سیاسی و سماجی ساخت پر اثرات مرتب کیے۔ ان حلقوں کے مطابق ان فیصلوں کے پس منظر، مقاصد اور نتائج پر کھلی اور شفاف بحث ہونی چاہیے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔ تاہم اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں اور ان کا غیر جانبدارانہ تاریخی اور آئینی جائزہ لینا ضروری ہے۔ قومی مفاد اسی میں ہے کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کو نسلی یا لسانی تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے عوامی فلاح، انتظامی بہتری اور علاقائی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

آج اکیسویں صدی میں دنیا تیز رفتار مواصلاتی نظام، جدید ریلوے اور اقتصادی راہداریوں کے ذریعے ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے، جبکہ بلوچستان کے کئی علاقے اب بھی بنیادی سڑک اور ریلوے جیسی سہولتوں کے منتظر ہیں۔ یہ صورت حال صرف ترقیاتی مسئلہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کا بھی معاملہ ہے۔وفاقی حکومت، حکومتِ بلوچستان، وزارتِ ریلوے اور متعلقہ منصوبہ بندی کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سبی۔ہرنائی ریلوے لائن اور شاہراہ کی بحالی کو ہنگامی بنیادوں پر قومی ترقیاتی ترجیحات میں شامل کریں۔ یہ صرف ایک سڑک یا ریلوے لائن کا منصوبہ نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کو قومی ترقی کے دھارے میں مزید مضبوطی سے شامل کرنے کا امتحان بھی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف بلند و بالا دعوؤں سے نہیں بلکہ مضبوط انفراسٹرکچر، منصفانہ ترقیاتی منصوبہ بندی اور دور اندیش فیصلوں سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ایک صدی پہلے کے منصوبہ ساز مستقبل کو دیکھ سکتے تھے تو آج جدید ٹیکنالوجی اور بے شمار وسائل کے باوجود بنیادی مواصلاتی رابطوں کی بحالی میں مسلسل تاخیر یقیناً ایسے سوالات کو جنم دیتی ہے جن کا جواب عوام اپنے منتخب نمائندوں اور ریاستی اداروں سے بجا طور پر چاہتے ہیں۔