کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے مرکزی رہنما و سابق میئر کوئٹہ رحیم کاکڑ، جمیل بوستان ایڈووکیٹ، میروائیس ایڈووکیٹ، احمد شاہ ایڈووکیٹ، عمر فاروق ایڈووکیٹ، عبداللہ ایڈووکیٹ اور سردار بہلول خان کاکڑ نے نارکوٹکس کنٹرول بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روڈ بلیلی کسٹم کے قریب واقع سٹی گورنمنٹ کی دو ایکڑ اراضی بمعہ تعمیر شدہ بلڈنگ کو فوری طور پر خالی کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اربوں روپے مالیت کی پراپرٹی میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی ہے، جو کوئٹہ کے عوام کی امانت ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حاتم طائی بن کر عوامی املاک دوسروں کو تحفے میں بانٹتا پھرے۔سابق میئر رحیم کاکڑ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بطور ناظم کوئٹہ انہوں نے یہ جگہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کو ‘بیگرز ہوم’ (بھکاری و محتاج خانہ) کے طور پر دی تھی تاکہ شہر میں آوارہ بھکاریوں کی روک تھام کی جا سکے، جس کے بعد اس بلڈنگ، ٹیوب ویل، شیٹ اور آفس بلاک کی تمام تعمیرات انہوں نے خود اپنے دور میں کرائی تھیں۔ بعد ازاں، سابق صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر اسد بلوچ کے دورِ وزارت میں اس سینٹر کے لیے 50 سے 60 کے قریب ملازمین بھی بھرتی کیے گئے تھے، تاہم دسمبر 2022 میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے اس وقت کے سیکرٹری سکندر شاہ نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اور کسی خوف کے باعث اس بیگرز ہوم کو بند کر دیا اور یہ قیمتی سرکاری املاک نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کے حوالے کر دیں۔پی ٹی آئی رہنماں نے نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس غیر قانونی قبضے کو فوری طور پر ختم کر کے بیگرز ہوم کی بلڈنگ خالی کرے، بصورتِ دیگر تحریک انصاف اس عوامی اراضی کے تحفظ کے لیے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے دروازے پر دستک دے گی اور عدالتِ عالیہ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ تحریک انصاف ہمیشہ عوام کے حقوق اور سرکاری املاک کے تحفظ کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑی ہے اور کوئٹہ کے حقوق پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
