ریکوڈک منصوبہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کی تاریخ کا ایک غیر معمولی معاشی منصوبہ بن چکا ہے۔ چاغی کے علاقے میں موجود تانبے اور سونے کے وسیع ذخائر نے اسے عالمی معدنیاتی صنعت کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس منصوبے میں پاکستان، بلوچستان اور کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کی شراکت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ امریکا سمیت کئی عالمی معاشی اور صنعتی حلقے اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ریکوڈک کو صرف اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری یا ممکنہ منافع کے زاویے سے دیکھنا اس معاملے کی اصل پیچیدگی کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اس منصوبے کی سب سے اہم شرط یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً بلوچ آبادی کو اعتماد میں لیا جائے، انہیں منصوبے کے فوائد کا حقیقی شریک بنایا جائے اور ان کی رضامندی کو محض رسمی کارروائی کے بجائے معاہدے کی بنیادی روح بنایا جائے۔
ریکوڈک کے ذخائر کے بارے میں مختلف اوقات میں بڑے بڑے اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں، لیکن زیرِ زمین معدنی ذخائر اور ان سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدنی دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی کان میں موجود کل معدنی مقدار کو براہِ راست قومی آمدنی یا خالص منافع قرار نہیں دیا جاسکتا۔ دھات کا معیار، قابلِ استخراج ذخیرہ، عالمی منڈی میں سونے اور تانبے کی قیمت، کان کنی کی لاگت، بجلی، پانی، انفراسٹرکچر، ٹیکس، رائلٹی، سرمایہ کاری کی واپسی اور منصوبے کی کئی دہائیوں پر محیط مدت کو سامنے رکھ کر ہی اس منصوبے کے حقیقی معاشی فوائد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسی لیے 75 ارب ڈالر یا اس سے زائد ممکنہ منافع کے اعداد کو ایک طویل مدتی معاشی امکان سمجھنا چاہیے، فوری طور پر دستیاب آمدنی نہیں۔
امریکی قونصل جنرل لاہور اسٹیٹسن سینڈرز کا حالیہ بیان اس منصوبے کو ایک نئے بین الاقوامی تناظر میں لے آیا ہے۔ ان کے مطابق ریکوڈک پاک امریکا تعاون کی چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تاریخ کا ’’تبدیلی ساز‘‘ نمونہ بن سکتا ہے اور منصوبے کی پوری مدت میں امریکا سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی مشینری اور خدمات کی برآمدات، پاکستان میں 75 ارب ڈالر سے زائد منافع اور ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریکوڈک کی بنیاد 1961ء میں ہونے والے مشترکہ پاک امریکا ارضیاتی سروے میں پڑی تھی، جس کے دوران بلوچستان کے اہم معدنی ذخائر کی نشاندہی ہوئی۔ یہ بیان پاکستان کے لیے عالمی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ایک بڑے موقع کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم امریکی مفاد کو پاکستان کے مفاد کا متبادل سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ ہر ملک اور ہر عالمی کمپنی اپنے معاشی و تزویراتی مفادات کے تحت سرمایہ کاری کرتی ہے، اس لیے پاکستان کو اپنے قومی اور صوبائی مفاد کو واضح شرائط کے ذریعے محفوظ بنانا ہوگا۔
ریکوڈک میں امریکا کی دلچسپی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن یہ واحد ملک نہیں جس کی نظر بلوچستان کی معدنی دولت پر ہے۔ کینیڈا کی بیرک گولڈ اس منصوبے کا مرکزی بین الاقوامی شراکت دار ہے، جبکہ چین طویل عرصے سے پاکستان کے معدنی شعبے، انفراسٹرکچر اور صنعتی امکانات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی سطح پر سونے، تانبے اور نایاب معدنیات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث دیگر ممالک اور سرمایہ کاری کے ادارے بھی پاکستان کے معدنی وسائل کو مستقبل کے اہم معاشی اثاثے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال میں تانبہ خاص طور پر اہم ہوچکا ہے کیونکہ بجلی، قابلِ تجدید توانائی، برقی گاڑیوں، دفاعی صنعت اور جدید ٹیکنالوجی میں اس کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ ریکوڈک صرف پاکستان کی اندرونی معاشی ضرورت نہیں بلکہ عالمی معدنی مسابقت کا بھی حصہ ہے۔
بلوچستان میں اس منصوبے کے بارے میں رائے تاہم یکساں نہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ ریکوڈک بلوچستان کے لیے روزگار، سڑکوں، بجلی، پانی، تعلیم، صحت، کاروبار اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرسکتا ہے۔ دوسری جانب بلوچ حلقوں میں یہ بنیادی خدشہ موجود ہے کہ کہیں بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی اصل دولت کا بڑا حصہ صوبے اور مقامی آبادی سے باہر نہ چلا جائے۔ ماضی میں قدرتی وسائل سے متعلق منصوبوں کے تجربات نے بھی ان خدشات کو تقویت دی ہے۔ اس لیے حکومت کو یہ تصور ترک کرنا ہوگا کہ صرف معاہدے میں بلوچستان کا حصہ مقرر کردینا کافی ہے۔ بلوچستان کے عوام کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کے وسائل ان کی ترقی، عزت اور معاشی مستقبل کا ذریعہ بنیں گے، نہ کہ محرومی کا ایک اور باب۔
اسی لیے ریکوڈک پر سب سے پہلا اور بنیادی کام بلوچ عوام کو قائل کرنا ہونا چاہیے۔ چاغی اور گردونواح کے لوگوں سے براہِ راست مشاورت کی جائے، مقامی نمائندوں، قبائلی و سماجی قیادت، سیاسی جماعتوں، ماہرین، جامعات اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لیا جائے اور معاہدے کی بنیادی شرائط عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ کتنی آمدنی پاکستان کو ملے گی، بلوچستان کا حصہ کیا ہوگا، مقامی حکومت اور مقامی آبادی کو کیا فوائد حاصل ہوں گے، کتنے روزگار کے مواقع بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مخصوص ہوں گے، پانی کے استعمال کا طریقہ کیا ہوگا، ماحول کو نقصان سے کیسے محفوظ رکھا جائے گا اور کان کی زندگی مکمل ہونے کے بعد علاقے کے مستقبل کی کیا ضمانت ہوگی—ان تمام سوالات کے واضح جواب عوام کو دیے جانے چاہئیں۔
خصوصاً چاغی کے عوام کے لیے ایسا قابلِ پیمائش ترقیاتی معاہدہ ضروری ہے جس میں محض اعلانات کے بجائے قانونی اور مالی ضمانتیں موجود ہوں۔ مقامی نوجوانوں کی فنی تربیت، ملازمتوں میں ترجیح، مقامی کاروباروں کو ٹھیکے، اسکالرشپس، ہسپتال، تعلیمی ادارے، پانی کی فراہمی، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات منصوبے کے مستقل فوائد کا حصہ بنائے جائیں۔ اسی طرح ماحولیات اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے آزاد ماہرین کی نگرانی ضروری ہے تاکہ معدنی دولت حاصل کرتے ہوئے بلوچستان کے مستقبل کے آبی اور ماحولیاتی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان نہ پہنچے۔
حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ریکوڈک کسی سیاسی حکومت یا ایک مخصوص ادارے کا منصوبہ بن کر نہ رہ جائے بلکہ شفاف قومی اور صوبائی پالیسی کے تحت چلایا جائے۔ معاہدوں، مالیاتی ذمہ داریوں، آمدنی کی تقسیم اور نگرانی کے نظام میں جہاں قانونی اور تجارتی مصلحت اجازت دے وہاں زیادہ سے زیادہ شفافیت اختیار کی جائے۔ بلوچستان اسمبلی کو مؤثر نگرانی کا اختیار دیا جائے اور صوبے کے عوام کو سالانہ بنیاد پر بتایا جائے کہ منصوبے سے کتنی آمدنی ہوئی، کتنی سرمایہ کاری آئی، کتنے مقامی افراد کو روزگار ملا اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کتنا خرچ ہوا۔
ریکوڈک پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، لیکن یہ موقع اسی وقت قومی کامیابی میں تبدیل ہوگا جب بلوچستان کے عوام اسے اپنی کامیابی سمجھیں گے۔ امریکا اسے پاک امریکا تعاون کی چھ دہائیوں کی نئی مثال قرار دے سکتا ہے، کینیڈا اس میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے، عالمی منڈی اس کے تانبے اور سونے کی منتظر ہوسکتی ہے، مگر اس منصوبے کی اصل ملکیت اور اخلاقی قبولیت بلوچستان کے عوام کے اعتماد سے پیدا ہوگی۔ ریاست کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ بلوچ عوام کو محض یہ بتانا کافی نہیں کہ ریکوڈک سے ملک کو کتنے ارب ڈالر مل سکتے ہیں؛ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان کے حصے میں کیا آئے گا، ان کے علاقے کا مستقبل کیسے بدلے گا اور ان کے قدرتی وسائل پر ان کی آواز کتنی مؤثر ہوگی۔
ریکوڈک کی اصل کامیابی کان سے سونا اور تانبا نکالنے میں نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے دل سے محرومی اور بداعتمادی نکالنے میں ہوگی۔ اگر حکومت شفافیت، مقامی شراکت، منصفانہ مالی فائدے، ماحولیات کے تحفظ اور بلوچ عوام کی حقیقی رضامندی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے تو ریکوڈک بلوچستان کے لیے ایک نئے معاشی دور کا آغاز کرسکتا ہے۔ لیکن اگر مقامی آبادی کو صرف وسائل کے مالک علاقے کے طور پر دیکھا گیا اور فیصلہ سازی میں ان کی آواز کو ثانوی حیثیت دی گئی تو دنیا کا سب سے بڑا معدنی منصوبہ بھی اعتماد کا بحران ختم نہیں کرسکے گا۔ ریکوڈک کا مستقبل دراصل صرف کان کے اندر موجود سونے اور تانبے سے نہیں، بلوچستان کے عوام کے اعتماد سے طے ہوگا۔
