کوئٹہ (ویب نیوز): خضدار سے تعلق رکھنے والی اسما جتک دو سال بعد میڈیا کے سامنے آگئیں اور حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور متعلقہ حکام سے انصاف اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی۔ اسما جتک نے دعویٰ کیا کہ انہیں 5 فروری 2024 کو خضدار سے اغوا کیا گیا تھا اور اس معاملے میں ظہور جمالزئی ملوث تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدار، شفاف اور فوری تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اغوا کے دوران ان سے زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں، جنہیں بعد ازاں سوشل میڈیا پر پھیلا کر ان کی ساکھ اور ذہنی سکون کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے خاندان کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے نواب ثناء اللہ خان زہری اور نعمت اللہ خان زہری سے بھی معاملے کا نوٹس لے کر انصاف کی فراہمی میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ (یہ تمام الزامات اسما جتک کے بیان پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔)
