پاکستان کی بدقسمتی صرف یہ نہیں کہ اسے مختلف ادوار میں سیاسی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ عظیم اور اہل شخصیات کی موجودگی کے باوجود طاقت کے مراکز نے بارہا عوام میں سے ابھرنے والی حقیقی قیادت کے بجائے مصنوعی شخصیات تیار کرنے اور انہیں آگے لانے کا راستہ اختیار کیا۔ اس تجربے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وقتی طور پر بعض ادارے اور طاقت کے مراکز تو مضبوط ہوئے، مگر ریاست، سیاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا چلا گیا۔ سقوطِ ڈھاکہ اس تلخ تاریخ کا ایک بڑا سبق ہے، مگر افسوس کہ اس سے وہ سبق نہیں سیکھا گیا جو سیکھنا چاہیے تھا۔
آج بھی ملک کے مختلف حصوں میں بے چینی، سیاسی عدم اعتماد، معاشی مشکلات اور بدامنی کے آثار موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم کب تک مصنوعی قیادت پیدا کرنے کی اس روش کو جاری رکھیں گے؟ کسی معاشرے میں قیادت مصنوعی طور پر تیار کرکے زیادہ دیر تک مسلط نہیں کی جاسکتی۔ حقیقی قیادت عوام کے درمیان سے جنم لیتی ہے، مشکلات کا سامنا کرتی ہے، اپنے لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتی ہے اور اپنے کردار، تجربے اور عوامی اعتماد سے اپنا مقام بناتی ہے۔ پاکستان کے ہر صوبے، ہر خطے اور ہر طبقے میں آج بھی نوجوانوں اور تجربہ کار افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو صلاحیت، اہلیت اور وژن رکھتی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ انہیں آزادانہ سیاسی و سماجی میدان فراہم کیا جائے تاکہ عوام اپنی قیادت خود منتخب کرسکیں۔
پاکستان کو اب شخصیات بنانے والی فیکٹریوں کی نہیں بلکہ ایسا مضبوط، غیر جانب دار اور قابلِ قبول نظام درکار ہے جو حقیقی قیادت پیدا ہونے کا راستہ کھولے۔ ایسا نظام جس میں ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں، اقتدار عوام کے ووٹ سے منتقل ہو، وفاق تمام اکائیوں کو مساوی احترام اور انصاف دے، اور کسی شخصیت کو مصنوعی ذرائع سے عوام پر مسلط کرنے کے بجائے عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہو۔ اگر ہم ماضی کی غلطیوں کو دہراتے رہے تو ادارے شاید وقتی طور پر طاقتور دکھائی دیں، مگر ریاست اندر سے مزید کمزور ہوگی۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مصنوعی شخصیات کی تیاری کا سلسلہ ختم کرکے حقیقی عوامی قیادت، آئین کی بالادستی اور قابلِ قبول نظام کو موقع دیا جائے۔ پاکستان کو کسی مصنوعی نجات دہندہ کی نہیں، ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو عوام میں سے حقیقی قیادت کو سامنے آنے دے۔
