اداریہ ۱۷ ستمبر ۲۰۲۶

خطے کی جنگیں، مسلم دنیا کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر خطرناک جنگی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں اور مقدس مقامات کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات نے صورتحال کی حساسیت کئی گنا بڑھا دی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب کو درپیش خطرات نے تینوں ممالک کے دفاعی تعاون کو بھی عملی امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات میں خطے کے ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلسل پراکسی جنگیں اور باہمی تصادم کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف لے جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے ان جنگوں کو ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے وسیع تر منصوبوں سے جوڑا جاتا ہے، تاہم اس بارے میں دعووں کو سیاسی بیانات کے بجائے ٹھوس شواہد اور متعلقہ ریاستوں کی پالیسیوں کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔

سعودی عرب کو جدید جنگی طیاروں، خصوصاً ایف-35 کی ممکنہ فروخت نے بھی خطے میں اسلحے کی دوڑ اور جنگی صنعت کے کردار پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں جنگیں پہلے ہی انسانی اور معاشی تباہی کا سبب بن رہی ہیں، اربوں ڈالر کے نئے ہتھیار خریدنے پر یہ سوال جائز ہے کہ مسلم ممالک اپنی دولت کا بڑا حصہ دفاعی سازوسامان پر خرچ کرتے رہیں گے یا تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کو بھی ترجیح دیں گے۔ جنگی صنعت کی مسلسل توسیع سے اسلحہ فروش طاقتوں کے معاشی مفادات ضرور وابستہ ہیں، مگر مسلم ممالک کے لیے اصل ترجیح اپنے عوام، معیشت اور خطے کے مستقل امن کا تحفظ ہونا چاہیے۔

اسلامی دنیا کو اب محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی سربراہ اجلاس فوری طلب کیا جائے، جس میں سعودی عرب سمیت تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مشاورت کرکے مقدس مقامات کے تحفظ، شہری آبادی کی سلامتی، یمن اور دیگر علاقائی تنازعات کے سیاسی حل اور بیرونی مداخلت سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل دیا جائے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنے دفاعی تعاون کو علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششوں سے جوڑیں، جبکہ ایران سمیت تمام علاقائی قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جائے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک دوسروں کے مفادات کی جنگوں کا میدان بننے کے بجائے اپنے اجتماعی مفادات، امن اور مستقبل کے تحفظ کے لیے خود فیصلہ کن حکمت عملی وضع کریں۔