کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل)حکومتِ بلوچستان نے گہرے رنج و غم اور شدید تشویش کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ اتوار کے روز کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ٹرین شٹل سروس کو ایک گاڑی بم خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ بزدلانہ حملہ معصوم انسانی جانوں سمیت بلوچستان کے امن، استحکام اور شہری زندگی کو نقصان پہنچانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس المناک واقعے میں خواتین اور بچوں سمیت 30 افراد شہید جبکہ 60 زخمی ہوئے ہیں۔ شہدا میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تین اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ اکثریت عام شہریوں، مسافروں، راہگیروں اور قریبی گھروں کے مکینوں کی ہے۔ اس اندوہناک سانحے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد (والد، والدہ، بیٹا اور بیٹی) بھی شہید ہوئے ہیں، جس نے پورے صوبے کو سوگوار کر دیا ہے۔واقعے کے فورا بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ہنگامی اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے کوئٹہ کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹروں و طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کر کے زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر شہر میں دفعہ 114پہلے ہی سے نافذ ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ نے امدادی سرگرمیوں اور رابطہ کاری کو مثر بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے دفتر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی محکمہ داخلہ بلوچستان میں خصوصی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن سیل بھی فعال کر دیا گیا ہے تاکہ تمام متعلقہ محکمے اور ریسکیو سروسز سیکیورٹی آپریشنز کو تیز کر سکیں۔دھماکے کی جگہ کو سیکیورٹی اداروں نے مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے اور فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کرنے اور علاقے کی کلیئرنس کے عمل میں مصروف ہیں تاکہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ دوسری جانب، وفاق اور صوبائی حکومت نے اس گھنانے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ معصوم شہریوں کے خون سے کھیلنے والے سفاک عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں عبرت ناک منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
