جنوبی پشتونخوا کے پہاڑ ایک بار پھر اپنے فرزندوں کے خون سے سرخ ہیں۔ جن گھروں میں چند روز بعد شادیوں کی تیاریاں عروج پر تھیں، وہاں آج صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ جن ماؤں نے اپنے بیٹوں کے سروں پر سہرا سجانے کے خواب دیکھے تھے، وہی مائیں آج ان کے جنازوں سے لپٹ کر صبر کا آخری امتحان دے رہی ہیں۔ بہنوں کے ہاتھوں کی مہندی ابھی ماند بھی نہ پڑی تھی کہ ان کے نصیب میں بھائیوں کی جدائی کا دائمی غم لکھ دیا گیا۔ یہ صرف چند خاندانوں کا دکھ نہیں بلکہ پوری قوم کے ضمیر پر ایک ایسا زخم ہے جو مدتوں نہیں بھر سکے گا۔
قلم نے بھی آج جیسے اپنی سمت بدل لی ہے۔ جب شہداء کے جنازوں کے راستوں میں رکاوٹوں کی خبریں سامنے آئیں تو محسوس ہوا کہ لفظ بھی اس کرب کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ منظر نیا نہیں۔ اگست 2016 میں سول ہسپتال کوئٹہ کے المناک سانحے کے بعد بھی شہر کی ہر شاہراہ جنازوں سے گزرتی تھی۔ اس وقت بھی اپنے ہی شہر میں خود کو اجنبی اور مسافر محسوس ہوتا تھا، اور آج برسوں بعد جنوبی پشتونخوا میں وہی کیفیت پھر سے لوٹ آئی ہے۔
سلام ہے ان ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کو جنہوں نے صبر اور وقار کے ساتھ جنازوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرایا۔ سلام ہے ان نوجوانوں کو جنہوں نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے اپنے شہداء کی میتیں اپنے کندھوں پر اٹھا کر قومی غیرت اور انسانی ذمہ داری کا حق ادا کیا۔ سلام ہے ان تمام افراد کو جنہوں نے شدید غم، اشتعال اور تکلیف کے باوجود پُرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا۔ یہ رویہ اس قوم کے شعور اور برداشت کا ثبوت ہے۔
لیکن اب سوال صرف تعزیت کا نہیں، ریاستی جوابدہی کا ہے۔
صوبے میں امن و امان کے قیام پر ہر سال تقریباً **120 سے 150 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی یہ خطیر رقم اگر امن، تحفظ اور استحکام کے بجائے مسلسل خونریزی، خوف اور بے یقینی میں تبدیل ہو رہی ہے تو یہ محض ایک انتظامی کمزوری نہیں بلکہ پورے نظامِ حکمرانی پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ اتنے بڑے وسائل کہاں خرچ ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج کیوں نظر نہیں آ رہے۔
اس سانحے کے حوالے سے مختلف متاثرہ حلقوں اور مقامی ذرائع کی جانب سے یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ محصور جوانوں تک بروقت اسلحہ اور ضروری سامان پہنچانے کا مؤثر بندوبست موجود نہیں تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ جب مقامی نوجوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اسلحہ اور امدادی سامان پہنچانے کی آمادگی ظاہر کی تو انہیں بھی مبینہ طور پر آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ بعض سرکاری ڈرائیوروں کے متعلق یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ انہوں نے خطرناک علاقوں میں گاڑیاں لے جانے سے انکار کیا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو ان کی آزاد، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ معاملہ صرف انتظامی غفلت کا نہیں بلکہ قومی سلامتی اور انسانی جانوں سے وابستہ ہے۔
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر گزشتہ کئی ماہ سے جنوبی پشتونخوا میں بڑھتے ہوئے خطرات اور دہشت گردی کے حوالے سے مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو ان پر بروقت توجہ کیوں نہ دی گئی؟ اگر متعلقہ اداروں کے پاس معلومات موجود تھیں تو مؤثر کارروائی کیوں نہ ہوئی؟ اور اگر معلومات موجود نہیں تھیں تو انٹیلی جنس نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور اصلاح کیوں نہ کی جائے؟
یہ سانحہ ایک اور بنیادی سوال بھی جنم دیتا ہے۔ اگر ریاست یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد عناصر کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی ممکن ہے اور ضرورت پڑنے پر ان کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے، تو عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اپنے ہی ملک کے اندر موجود ایسے عناصر یا ان کے مبینہ ٹھکانوں کا بروقت سراغ کیوں نہیں لگایا جا سکا؟ اگر ان کا علم تھا تو کارروائی کیوں نہ ہوئی، اور اگر علم نہیں تھا تو اس کی وجوہات کیا تھیں؟ ان سوالات کے واضح جوابات ریاستی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔
اسی تناظر میں یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ ملک کے ہر حصے کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے میں یکساں عزم اور حساسیت کا مظاہرہ کیا جائے۔ گزشتہ برس جب پنجاب کے بعض علاقوں پر بھارتی حملوں کے بعد پاکستان نے فوری دفاعی ردعمل دیا تو پوری قوم نے اس قومی یکجہتی کو سراہا۔ یہی احساسِ ذمہ داری، بروقت فیصلہ سازی اور مؤثر ردعمل جنوبی پشتونخوا، بلوچستان، سندھ، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور ملک کے ہر خطے کے شہریوں کے لیے بھی یکساں طور پر نظر آنا چاہیے۔ ریاست کی اصل طاقت اسی میں ہے کہ اس کے نزدیک ہر پاکستانی کی جان برابر اہمیت رکھتی ہو۔
اب وقت آگیا ہے کہ رسمی بیانات، مذمتی قراردادوں اور وقتی اعلانات سے آگے بڑھا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ تمام متعلقہ انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی، آزاد اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے، جو اس سانحے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے، انٹیلی جنس، رابطہ کاری، آپریشنل تیاری، انتظامی ذمہ داریوں اور ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کرے اور مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔ جہاں غفلت یا نااہلی ثابت ہو، وہاں بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومتی ڈھانچے میں شامل تمام وزراء، مشیروں، معاونین، اعلیٰ سرکاری افسران اور دیگر بااثر افراد کے مالی معاملات اور بدعنوانی کے الزامات کی آزادانہ جانچ بھی کی جائے۔ عوام سے ثبوت، دستاویزات اور شکایات طلب کی جائیں، ہر الزام کو قانون اور شواہد کی بنیاد پر جانچا جائے، بے گناہ کو مکمل تحفظ دیا جائے اور قصوروار کو فوری اور منصفانہ سزا دی جائے۔ ایسا نظامِ احتساب قائم کیا جائے کہ آئندہ اقتدار کو ذاتی مفاد، کرپشن یا اختیار کے ناجائز استعمال کا ذریعہ بنانے کا تصور بھی کسی کے ذہن میں نہ آئے۔
اگر کوئی حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے میں مسلسل ناکام ثابت ہو تو جمہوری اور آئینی نظام کے تحت اس کی سیاسی ذمہ داری کا تعین بھی ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوامی نمائندہ اداروں اور آئینی طریقۂ کار کے مطابق جوابدہی ہونی چاہیے تاکہ نظام پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔
جنوبی پشتونخوا کے شہداء کا خون صرف آنسو، تعزیتی بیانات یا وقتی اعلانات نہیں مانگتا۔ وہ ایک ایسی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے جہاں قومی وسائل عوام کے تحفظ پر صرف ہوں، انٹیلی جنس نظام جوابدہ ہو، ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں، احتساب بلاامتیاز ہو اور انصاف میں طاقتور اور کمزور کے درمیان کوئی فرق نہ رکھا جائے۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی اصلاحات نہ ہوئیں، ذمہ داروں کا تعین نہ ہوا اور نظام کو درست نہ کیا گیا تو تاریخ صرف ان شہداء کو نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، نااہلی اور خاموشی کو بھی اپنے سخت ترین الفاظ میں یاد رکھے گی۔۔
