وفاقی پی ایس ڈی پی 2026-27 اور بلوچستان کے صوبائی بجٹ کے بعد جنوبی پشتونخوا میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ ترقیاتی ترجیحات کا تعین کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے گوادر ترقیاتی منصوبوں کے لیے 14.2 ارب روپے، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 2.55 ارب روپے، گوادر۔رتودیرو شاہراہ کے لیے ایک ارب روپے، گوادر۔بسیمہ۔جیکب آباد ریلوے منصوبے کے لیے فنڈز، ہوشاب۔آواران۔خضدار ایم-8 شاہراہ کے لیے 6.5 ارب روپے، آواران ڈیم، پنجگور ڈیم اور خاران کے گڑوک ڈیم سمیت متعدد منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی ہیں۔ان منصوبوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کوئٹہ، پشین، کاریزات، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، لورالائی، موسیٰ خیل، زیارت، دکی، سبی اور ہرنائی جیسے اضلاع کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی میں کون سے بڑے منصوبے رکھے گئے ہیں؟ اگر رکھے گئے ہیں تو ان کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جاتیں، اور اگر نہیں رکھے گئے تو اس عدم توازن کی وجوہات کیا ہیں؟
جنوبی پشتونخوا کے عوام اس حقیقت سے پریشان ہیں کہ مسلسل تیسرے بجٹ میں ان کے علاقوں کے حوالے سے واضح اور نمایاں ترقیاتی منصوبے سامنے نہیں آئے۔ دوسری جانب صوبے کے دیگر علاقوں میں شاہراہوں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ڈیموں اور بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی ترجیحات پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں وفاقی حکومت شدید تنقید کی مستحق ہے۔ ایک وفاق کی اصل طاقت اس کی مساوی اور متوازن ترقی میں ہوتی ہے۔ اگر کسی خطے کے عوام مسلسل یہ محسوس کریں کہ ان کی ضروریات، مسائل اور امکانات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو اس کے اثرات صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ بلوچستان کے تمام علاقوں کو یکساں اہمیت دے اور ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم میں شفافیت اختیار کرے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک امر یہ ہے کہ جنوبی پشتونخوا کی سیاسی نمائندگی اس معاملے پر وہ مؤثر آواز بلند نہیں کر سکی جس کی عوام توقع رکھتے تھے۔ اسمبلی کے فلور پر چند رسمی اعتراضات اور محدود شکایات کے علاوہ کوئی منظم اور مشترکہ حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ان کے علاقوں کو ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا تو ان کے منتخب نمائندے کہاں ہیں؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پشتون سیاسی قیادت ذاتی، گروہی اور وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی قومی مفادات کو مقدم رکھے۔ قوموں کی قیادت صرف انتخابات جیتنے سے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے مؤثر جدوجہد سے ثابت ہوتی ہے۔ جنوبی پشتونخوا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو اسمبلیوں، سیاسی فورمز اور عوامی میدان میں یکساں قوت کے ساتھ اپنے عوام کے مقدمے کی وکالت کر سکیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت وسائل کی تقسیم کے بارے میں مکمل شفافیت اختیار کرے اور جنوبی پشتونخوا کے عوام کو یہ یقین دلائے کہ وہ ترقی کے قومی دھارے کا برابر حصہ ہیں۔ اسی طرح پشتون قیادت پر بھی لازم ہے کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے قوم کی حقیقی ترجمان بنے، کیونکہ تاریخ میں وہی قیادت زندہ رہتی ہے جو اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔
