مقامی ۲ جون ۲۰۲۶

جامعہ بلوچستان کے مالی بحران اور واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف 4 جون سے احتجاجی کیمپ لگانے کا فیصلہ ، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن

کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کی کابینہ کا ایک اہم اور ہنگامی اجلاس صدر پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں جنرل سیکرٹری فرید خان اچکزئی، پریس سیکرٹری رحمت اللہ اچکزئی، میڈم فرحانہ عمر مگسی، ڈاکٹر محب کاکڑ اور مسعود مندوخیل سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں جامعہ بلوچستان کو درپیش سنگین مالی بحران، ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کے واجبات کی عدم ادائیگی، اساتذہ کی مراعات میں کٹوتیوں اور دیگر مروجہ انتظامی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کابینہ نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ سال 2022 سے ریٹائر ہونے والے متعدد اساتذہ اور ملازمین تاحال اپنی گریجویٹی، پنشن کنٹری بیوشن، جی پی فنڈ اور پچھلے سال بجٹ میں اضافہ شدہ واجبات سے محروم ہیں، جس کے باعث وہ شدید معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ان سنگین مسائل کے حل کے لیے 4 جون بروزِ جمعرات سے جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی اور جامعہ کو درپیش مالی بحران کے مستقل حل کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ کابینہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ اساتذہ اور ملازمین کی امانت تصور کیے جانے والے جی پی فنڈ کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے، جبکہ مختلف منظور شدہ الانسز میں کٹوتیاں بھی کی گئی ہیں۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کٹوتیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور یونیورسٹی کے ملازمین کو وہی مراعات فراہم کی جائیں جو صوبائی سیکرٹریٹ اور گورنر سیکرٹریٹ کے ملازمین کو حاصل ہیں۔اجلاس کے شرکا نے اساتذہ کی سینڈیکیٹ اور سینیٹ سے منظور شدہ اپ گریڈیشن پر فوری عملدرآمد، طویل عرصے سے خالی منظور شدہ آسامیوں کو پر کرنے اور مینٹیننس الانس کے نام پر بنیادی تنخواہ سے 5% کٹوتی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کی کابینہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی کے لیے خصوصی مالی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور سالانہ گرانٹس میں کم از کم 15 ارب روپے کا اضافہ کیا جائے، تاکہ پنشنرز کے واجبات، جی پی فنڈ کی ادائیگی اور جامعات کے مالی مسائل کا پائیدار حل ممکن ہو سکے۔ اجلاس کے اختتام پر جامعہ بلوچستان کے تمام اساتذہ، ریٹائرڈ اساتذہ، افسران اور ملازمین سے اپیل کی گئی کہ وہ 4 جون کو شروع ہونے والے احتجاجی کیمپ میں بھرپور شرکت کریں۔