مقامی ۹ مئی ۲۰۲۶

جامعہ بلوچستان میں اساتذہ کو بائیو میٹرک حاضری کے لیے دھمکی آمیز خطوط کی مذمت

کوئٹہ( ویب ڈیسک)اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے بائیو میٹرک حاضری کے زبردستی نفاذ اور اساتذہ کو دھمکی آمیز خطوط جاری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اساتذہ کی حاضری کا معاملہ جامعہ کے اعلی ترین فورمز، سنڈیکیٹ اور سینیٹ سے پہلے ہی حل ہو چکا ہے، لہذا کسی بھی نئے نظام کو زبردستی نافذ کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ جامعہ بلوچستان ایکٹ 2022 کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے، جہاں کسی بھی پالیسی یا انتظامی طریقہ کار کے نفاذ کے لیے سنڈیکیٹ اور سینیٹ کی منظوری لازمی ہے۔ ترجمان نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے یا سلیکشن بورڈ کی سفارشات کو متعلقہ فورمز کی منظوری تک روکا جاتا ہے، تو بائیو میٹرک حاضری جیسے غیر منظور شدہ فیصلے کو کس بنیاد پر نافذ کیا جا رہا ہے؟ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کے خلاف جاری تمام غیر قانونی نوٹیفکیشنز فوری واپس لیے جائیں اور جامعہ کے مروجہ قوانین کا احترام یقینی بنایا جائے۔