تربت(صداقت ویب نیوز)بلوچستان کے شہر تربت کے علاقے نیو بہمن میں ایک گھر میں ہونے والی ڈکیتی کی واردات کے چند ہی لمحوں بعد پولیس نے فوری اور بڑا ایکشن لیتے ہوئے ایک زخمی مبینہ ڈاکو کو گرفتار کر لیا، جبکہ لوٹا گیا سونا، چار موبائل فونز، بھاری اسلحہ اور مشتبہ گاڑی بھی اپنے قبضے میں لے لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نیو بہمن میں ایک گھر میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر خواتین سے سونا اور موبائل فون لوٹ کر فرار ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی کیچ کیپٹن(ر)زوہیب محسن کی خصوصی ہدایت پر عبدالسلام اور ایس ایچ او غفار دشتی کی سربراہی میں سی آئی اے اور تربت پولیس کی مشترکہ ٹیموں نے فوری متحرک ہو کر ملزمان کا تعاقب شروع کر دیا۔ایس پی کیچ کیپٹن زوہیب محسن نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ پولیس کے شدید تعاقب کے دوران ملزمان فرار ہونے کی کوشش میں اپنی گاڑی چھوڑ کر مختلف سمتوں میں بھاگ نکلے۔ پولیس نے جب مذکورہ مشتبہ گاڑی کی تلاشی لی تو وہاں سے ایک زخمی مبینہ ڈاکو، جس کی شناخت میران خالد سکنہ پھل آباد تمپ کے نام سے ہوئی ہے، برآمد ہوا جسے فوری طور پر حراست میں لے کر علاج کے لیے ٹیچنگ اسپتال تربت منتقل کر دیا گیا۔ گاڑی سے واردات میں چھینے گئے موبائل فونز، دو کلاشنکوف، ایک پستول اور ایک ہینڈ گرنیڈ (دستی بم) بھی برآمد ہوا ہے۔ ایس پی کے مطابق فرار ہونے والے دیگر تین ملزمان کی تلاش جاری ہے اور یہ باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ زخمی ملزم پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہوا یا اپنے ہی ساتھیوں کی گولی کا نشانہ بنا۔دوسری جانب، زخمی شخص میران خالد نے گدروشیا پوائنٹ کو بتایا کہ اسے تین دن قبل تمپ کے علاقے کونشقلات سے موٹرسائیکل سواروں نے اغوا کیا تھا اور آج گاڑی میں بٹھا کر چھوڑنے کا جھانسا دیا گیا، تاہم پولیس نے اس بیان کو یکسر جھوٹ اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔ ایس پی کیچ نے واضح کیا کہ یہ ملزمان بغیر نمبر پلیٹ گاڑی میں سوار ہو کر ضلع کے مختلف علاقوں میں وارداتیں کر رہے تھے جنہیں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ پولیس کی اس تیز رفتار اور بروقت کارروائی پر متاثرہ خاندان اور اہلِ علاقہ نے گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تربت پولیس کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ایس پی کیچ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کے لیے پولیس کے ساتھ اپنا تعاون برقرار رکھیں۔
