مقامی ۱ جون ۲۰۲۶

بلوچ اور پشتون اقوام کے مابین نفرت پیدا کرنا جبر و استحصال کی پالیسیوں کو فروغ دینا ہے، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی

کوئٹہ (صداقت ویب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے مرکزی ترجمان نے اپنے ایک تفصیلی و فکری نظریاتی بیان میں کہا ہے کہ بلوچ اور پشتون سمیت تمام محکوم اقوام کے مابین اختلافات یا نفرت پیدا کرنا کسی بھی طور پر ان اقوام کے مفاد میں نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف بالادست قوتوں کے جبر و استحصال کی پالیسیوں کو فروغ دینے کا سبب بنتا ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پشتون و بلوچ سمیت تمام محکوم اقوام کی سرزمین کا یکساں احترام کرتے ہوئے تاریخی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی بنیادوں پر ان کی قومی وحدتوں کی تشکیل کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ تاہم، یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ تمام محکوم اقوام اپنے دائرہ حدود میں رہ کر جغرافیائی ترتیب کو انسانی و معاشرتی اصولوں پر گامزن رویوں کے تحت اپنے مطالبات کی بحث کو پختگی فراہم کریں۔ محکوم اقوام کی قومی وحدت پر ضرب لگانے کا اصل مقصد برطانوی نوآبادیاتی دور کی اسی پرانی انتظامی تقسیم کو برقرار رکھنا ہے تاکہ عالمی سامراجی عزائم کو تحفظ دیا جا سکے۔ترجمان نے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سابقہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں بلوچ اور پشتون علاقوں کو ڈیورنڈ اور گولڈ اسمتھ جیسی مصنوعی لکیروں کے ذریعے تقسیم کر کے ان کی قومی اجتماعی قوتوں کو کمزور کیا گیا تاکہ استعماریت کے خلاف اٹھنے والی ممکنہ مزاحمتی جدوجہد کو قابو میں رکھا جا سکے۔ بلوچ علاقوں کو قلات ریاست سے لیز پر لینا اور ریل کی پٹری بچھا کر کابل و تہران پر تسلط کا خواب دیکھنا برطانوی نوآبادیاتی سازشوں کا حصہ تھا، جس کے لیے پشتون اور بلوچ سرزمین کو زمینی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور برٹش-بلوچستان سے منسوب ان علاقوں کو پولیٹیکل ایجنٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کا بنیادی ہدف صرف حکومت کرنا نہیں بلکہ زیرِ زمین معدنیات کو بے دردی سے لوٹنا تھا، جس کا واضح ثبوت اس خطے سے بھاری مقدار میں معیاری کوئلہ نکال کر کلکتہ کی صنعتوں کو ایندھن فراہم کرنا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ فقیر ایپی اور پالے خان مندوخیل پشتون قوم کے وہ باشعور اور جرات مند قائدین تھے جنہوں نے برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بدقسمتی سے بعد میں مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کر کے محکوم اقوام بالخصوص پشتون قوم کو دو قطبی عالمگیر قوتوں کے مابین جنگ کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پشتون و بلوچ سرزمین کو مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے اور بالادست حکمران اپنے مذموم عزائم کے لیے دونوں اقوام کے مابین نفرت کے جذبات ابھار رہے ہیں۔ آج بھی ریاست کے ایوانوں میں بلوچ و پشتون سمیت دیگر محکوم اقوام کو شفاف انتخابات کے ذریعے رائے شماری کا حق نہیں دیا جاتا اور بوگس حکمرانوں کو غیر فطری قوانین کے تحت مسلط کرایا جاتا ہے، جو استعماری قوتوں کے سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں اقوام کا اصل مفاد باہمی اتحاد، بلند سیاسی شعور اور مشترکہ جدوجہد میں مضمر ہے تاکہ اس تاریخی اور انتظامی عدم مساوات کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔ محکوم اقوام کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے کے بجائے اپنے اپنے قومی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے اپنی حدود اور قومی وحدت میں منظم ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کی جدوجہد کا احترام کرتے ہوئے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ صرف باہمی اتحاد، اعتماد اور سیاسی شعور کے ذریعے ہی موجودہ انتظامی تقسیم کے منفی اثرات کو یکسر ختم کیا جا سکتا ہے اور دونوں محکوم اقوام کے لیے ایک منصفانہ، جمہوری اور بااختیار نظام کی طرف پیش رفت کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔