کوئٹہ (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی دہشت گردی، انسانیت دشمنی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری مشترکہ مذمتی بیان میں کہا گیا کہ ملک میں آئے روز دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہایت تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں جبکہ بے گناہ شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے مشترکہ بیان میر عطا اللہ لانگو، ایڈووکیٹ جمیل بوستان، موسی جان کاکڑ، عصمت اللہ اچکزئی، جنرل سیکرٹری نجب الدین آغا، سمیرا عابد، آیاز خان کاکڑ، سنان ہوت اور عبد القادر کاکڑ کی جانب سے جاری کیا گیا بیان میں کہا گیا کہ کوئٹہ میں ٹرین پر ہونے والا دہشت گرد حملہ نہ صرف ایک افسوسناک اور المناک واقعہ ہے بلکہ یہ ملک کے امن، استحکام اور ریاستی اداروں کیلئے کھلا چیلنج بھی ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے رہنماں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر معصوم اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا کر خوف و ہراس پھیلانا چاہتے ہیں مگر پوری قوم ان عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کیلئے متحد ہے وکلا رہنماں نے کہا کہ ملک میں آئے روز دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز، عوام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں اور قومی سلامتی کے محافظوں پر حملے دراصل پوری قوم پر حملے کے مترادف ہیں جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا بیان میں اس افسوسناک واقعے کے خلاف احتجاجا پیر 25 مئی کو بلوچستان بھر میں عدالتی کارروائیوں کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ وکلا برادری دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے گی اور صوبے بھر کی عدالتوں میں وکلا عدالتی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے بار ایسوسی ایشن نے دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ بیان میں زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے دعا بھی کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین کو فوری ریلیف اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ رہنماں نے وفاقی اور صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت ترین اور عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے یو این اے لے مطابق بیان میں کہا گیا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت، ناکامی یا کوتاہی ناقابل قبول ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ دہشت گردی، بدامنی اور خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف پوری قوم کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ ملک میں امن، قانون کی بالادستی، شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے وکلا رہنماں نے مزید کہا کہ بلوچستان طویل عرصے سے بدامنی اور دہشت گردی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، لہذا ضروری ہے کہ حکومت سنجیدہ اور مثر حکمت عملی اختیار کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلا برادری ملک میں آئین، قانون اور امن کی بالادستی کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور دہشت گردی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
