اداریہ ۱۰ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں خوف کا عالم کیوں اور اس کا علاج کیا؟

بلوچستان میں آج سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ امن و امان کی صورتحال کیوں خراب ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ خوف ایک عمومی کیفیت کیوں بنتا جا رہا ہے اور ریاست اس خوف کو ختم کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے؟ ایک ایسا صوبہ جو معدنی، ساحلی، زرعی اور جغرافیائی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اگر وہاں کا شہری بازار، شاہراہ، کاروبار، تعلیم اور روزگار کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی کا شکار ہو تو مسئلہ محض سکیورٹی کا نہیں رہتا بلکہ یہ گورننس، معیشت، اداروں اور عوامی اعتماد کا مشترکہ بحران بن جاتا ہے۔ بدامنی کا براہ راست نقصان جان و مال کے ضیاع تک محدود نہیں رہتا بلکہ سرمایہ کاری رکتی ہے، کاروبار متاثر ہوتا ہے، نوجوان مایوس ہوتے ہیں اور ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔

اس صورتحال کی وجوہات کو صرف دہشت گردی یا مسلح کارروائیوں تک محدود کرنا مسئلے کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ یقیناً دہشت گردی اور تشدد ایک بڑا چیلنج ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے، لیکن اس کے ساتھ کمزور گورننس، انتظامی خامیاں، سیاسی بے یقینی، معاشی محرومی، بے روزگاری، وسائل کی تقسیم کے بارے میں شکایات، انصاف تک رسائی میں مشکلات اور قانون کے یکساں نفاذ پر اٹھنے والے سوالات بھی صورتحال کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ جب شہری کو یہ یقین نہ ہو کہ اس کی جان، کاروبار، عزت اور مستقبل محفوظ ہے تو خوف صرف سڑکوں پر نہیں رہتا بلکہ گھروں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور کاروباری فیصلوں تک پہنچ جاتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ امن و امان پر مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود اگر خوف ختم نہیں ہورہا تو کیا صرف مزید رقم خرچ کرنا کافی ہے؟ بلوچستان کے 2025-26 کے سرکاری بجٹ میں پولیس، لیویز، جیلوں اور سول ڈیفنس سمیت متعلقہ شعبوں کے لیے تقریباً 95 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے۔ وفاقی سطح پر بھی انسدادِ دہشت گردی کے لیے مزید وسائل فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔ اتنی بڑی مالی سرمایہ کاری کے باوجود اگر عام شہری اپنے مستقبل کے بارے میں مطمئن نہیں تو اخراجات کے ساتھ ساتھ اخراجات کی سمت، ترجیحات اور نتائج کا جائزہ بھی ضروری ہے۔

یہاں ایک متبادل معاشی تصور پر سنجیدگی سے غور کیا جاسکتا ہے۔ فرض کریں بلوچستان کے دو لاکھ نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کیا جائے اور انہیں کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے۔ صرف بنیادی تنخواہوں کی مد میں سالانہ تقریباً 96 ارب روپے درکار ہوں گے۔ بظاہر یہ بھی ایک بہت بڑی رقم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر اتنی ہی رقم یا اس کے قریب وسائل نوجوانوں کو روزگار، فنی تربیت، صنعتی سرگرمی، زراعت، لائیو اسٹاک، معدنیات، تجارت اور چھوٹے کاروبار کے مواقع پیدا کرنے پر خرچ کیے جائیں تو اس کے نتیجے میں معاشرے کو صرف ملازمتیں نہیں بلکہ خریداری کی قوت، کاروباری سرگرمی، ٹیکس آمدنی اور سماجی استحکام بھی حاصل ہوگا۔

یہ تصور سکیورٹی اداروں کی اہمیت کم کرنے کی بات نہیں کرتا۔ پولیس، لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کی ناگزیر ضرورت ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا امن کو صرف سکیورٹی کا مسئلہ سمجھا جائے یا معاشی اور سماجی استحکام کو بھی امن کا بنیادی جزو تسلیم کیا جائے؟ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ محض سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر مستقل امن حاصل نہیں کرسکتا، جب تک نوجوانوں کو مستقبل، خاندانوں کو معاشی تحفظ اور شہریوں کو انصاف کا یقین نہ ہو۔

افغانستان کا تقابلی حوالہ بھی اسی بحث میں قابلِ غور ہے۔ طالبان حکومت کے بارے میں دستیاب اطلاعات میں وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ کے تحت تقریباً ساڑھے چار لاکھ اہلکاروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور ان کی تنخواہوں کے لیے سالانہ تقریباً 50 ارب افغانی کے اخراجات کے اعداد بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی طرح افغان حکومت کی کسٹمز اور دیگر محصولات سے حاصل ہونے والی آمدنی کے بارے میں بھی بڑے اعداد رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق اور ان کے درست تقابلی تناظر پر بحث اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن بنیادی سوال اہم ہے کہ *محدود وسائل رکھنے والی ریاست اگر اپنی آمدنی کو ایک بڑے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے میں استعمال کرسکتی ہے تو پاکستان جیسے ملک میں وسیع تر مالی وسائل کے باوجود بلوچستان میں امن کے لیے سکیورٹی کے ساتھ معاشی اور انسانی سرمایہ کاری کیوں مؤثر نتائج پیدا نہیں کررہی؟

یہ تقابل افغانستان کو کسی مثالی ماڈل کے طور پر پیش کرنے کے لیے نہیں بلکہ پالیسی کے ایک بنیادی سوال کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے۔ امن کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کتنے اہلکار تعینات ہیں، کتنے چیک پوسٹیں قائم ہیں یا کتنے آپریشن کیے گئے۔ *امن کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ عام شہری کتنی آزادی، اطمینان اور اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہا ہے۔* اگر نوجوان کے پاس روزگار نہیں، کاروباری طبقہ غیر یقینی کا شکار ہے، سرمایہ کار خطرہ محسوس کرتا ہے، طالب علم مستقبل کے بارے میں پریشان ہے اور خاندان اپنے تحفظ کے لیے فکرمند ہے تو محض سکیورٹی کے اعداد امن کی مکمل تصویر نہیں بن سکتے۔
بلوچستان کے قدرتی وسائل بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ صوبہ معدنیات، گیس، ساحل، ماہی گیری، زراعت، لائیو اسٹاک اور سرحدی تجارت کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ اگر ان شعبوں کو شفاف پالیسی، جدید ٹیکنالوجی، مقامی افراد کی شمولیت اور منصفانہ معاشی حصے کے ساتھ ترقی دی جائے تو لاکھوں روزگار پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ خاص طور پر معدنیات کے شعبے میں صرف خام مال نکالنے کے بجائے ویلیو ایڈیشن، مقامی صنعت اور ہنرمندی کو فروغ دیا جائے تو روزگار کے ساتھ صوبائی آمدنی میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی شرط ہے: گورننس بہتر بنانا ہوگی۔ وسائل موجود ہوں اور ادارے کمزور ہوں تو دولت ترقی کے بجائے تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔ امن و امان پر اربوں روپے خرچ ہوں مگر اس کا مؤثر آڈٹ، شفافیت، نتائج کا جائزہ اور عوامی جواب دہی نہ ہو تو اخراجات بڑھ سکتے ہیں مگر امن نہیں۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ موجود ہو مگر منصوبوں کا انتخاب سیاسی اثر و رسوخ، غیر شفاف ترجیحات یا ناقص نگرانی سے ہو تو محرومی کا احساس ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتا ہے۔

لہٰذا بلوچستان کے لیے ایک جامع امن و گورننس پالیسی کی ضرورت ہے جس میں پانچ بنیادی ستون ہوں: مؤثر سکیورٹی، قانون کی یکساں حکمرانی، روزگار و معاشی مواقع، سیاسی و سماجی مکالمہ اور شفاف گورننس۔ پولیس اور لیویز کو جدید تربیت، ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور مناسب وسائل دیے جائیں؛ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں واضح قانونی دائرے میں ہوں؛ شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مقامی سطح پر مؤثر نظام بنایا جائے؛ اور ترقیاتی وسائل کا رخ ان علاقوں کی طرف کیا جائے جہاں محرومی سب سے زیادہ ہے۔

اسی کے ساتھ دو لاکھ نوجوانوں کے روزگار جیسے بڑے منصوبے کو محض سرکاری ملازمتوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ہنرمندی کے مراکز، نوجوانوں کے کاروباری قرضے، معدنیات و زراعت سے متعلق چھوٹی صنعتیں، لائیو اسٹاک، ماہی گیری، آئی ٹی، سرحدی تجارت اور مقامی صنعت کے ذریعے بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرسکتی ہے۔ اس طرح حکومت کا ہر خرچ مستقل تنخواہی بوجھ نہیں بنے گا بلکہ معاشی سرگرمی پیدا کرے گا، جس سے مستقبل میں ٹیکس اور کاروباری آمدنی کے ذریعے ریاستی وسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔
خوف ختم کرنے کے لیے ریاست کو عوام سے صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ “حالات قابو میں ہیں”؛ بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں شہری خود محسوس کرے کہ حالات واقعی قابو میں ہیں۔ افواہوں کے مقابلے میں بروقت اور قابلِ اعتماد اطلاعات، شہری آزادیوں کے احترام، قانون کی یکساں عمل داری اور اداروں کی جواب دہی سے اعتماد پیدا ہوگا۔ اعتماد کے بغیر سکیورٹی کا نظام بھی محدود اثر رکھتا ہے، کیونکہ خوف زدہ معاشرہ ہر واقعے کو خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

بلوچستان کا مسئلہ کسی ایک حکومت، ایک سیاسی جماعت یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں۔ یہ ریاست، صوبے اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت، انتظامیہ، سکیورٹی ادارے، قبائلی و سماجی قیادت، وکلا، صحافی، ماہرین تعلیم، کاروباری طبقہ اور نوجوان مل کر ایک قابلِ عمل بلوچستان امن چارٹر تشکیل دیں۔ اس چارٹر میں صرف سکیورٹی اہداف نہیں بلکہ روزگار، تعلیم، صحت، انصاف، سرمایہ کاری، وسائل کی شفاف تقسیم اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی کے قابلِ پیمائش اہداف بھی شامل ہوں۔

آخرکار ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ بلوچستان میں خوف کا انتظام کرنا ہے یا خوف کی وجوہات ختم کرنی ہیں۔ اگر ہر سال اربوں روپے صرف اس لیے خرچ کیے جاتے رہیں کہ بدامنی کو کسی حد تک قابو میں رکھا جاسکے، تو یہ ایک نہ ختم ہونے والا چکر ہوگا۔ لیکن اگر اسی ریاستی سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں کو روزگار، کاروبار، تعلیم، ہنر اور مستقبل کا یقین دینے پر لگایا جائے تو سکیورٹی پر ہونے والے دباؤ کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

بلوچستان کو صرف زیادہ اہلکار نہیں، زیادہ مواقع چاہئیں؛ صرف زیادہ چیک پوسٹیں نہیں، زیادہ روزگار چاہیے؛ صرف کارروائیاں نہیں، انصاف اور اعتماد چاہیے؛ اور صرف بجٹ نہیں، بہتر گورننس چاہیے۔ کیونکہ پائیدار امن وہ نہیں جس میں خوف کو طاقت کے ذریعے خاموش کرادیا جائے، بلکہ وہ ہے جس میں شہری کو اپنی جان، عزت، روزگار اور مستقبل کے بارے میں ریاست پر اعتماد حاصل ہو۔ *جب نوجوان کے ہاتھ میں روزگار اور شہری کے دل میں اعتماد ہوگا تو بلوچستان میں خوف کی جگہ امید لے سکتی ہے۔