اداریہ ۲۷ جولائی ۲۰۲۶

بلوچستان: حقائق کی سیاست، مکالمے کی ضرورت اور مسائل کے حل کی راہ۔

بلوچستان کے مسائل پر ہونے والی علمی اور فکری گفتگو ہمیشہ خوش آئند سمجھی جاتی ہے، کیونکہ کسی بھی خطے کے سیاسی، آئینی اور تاریخی معاملات کو جذبات کے بجائے تحقیق، دستاویزی شواہد اور مکالمے کی بنیاد پر ہی بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں “واشنگٹن سے بیجنگ تک” جیسی کتاب کی اشاعت ایک مثبت علمی کوشش ہے، جو بلوچستان، علاقائی سیاست اور عالمی تبدیلیوں پر بحث کے لیے ایک نیا دروازہ کھولتی ہے۔ اگر صوبے کے دیگر سینئر سیاسی رہنما، سرکاری ذمہ داران، دانشور اور قومی قیادت بھی اپنے تجربات، فیصلوں اور تاریخی واقعات کو حقائق اور دستاویزات کی روشنی میں کتابی صورت میں قوم کے سامنے لائیں تو اس سے نہ صرف تاریخ محفوظ ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کو مختلف ادوار کی سیاست، کامیابیوں، ناکامیوں اور پالیسیوں کو سمجھنے کا موقع بھی ملے گا۔

بلوچستان کے مسائل پر مختلف سیاسی حلقوں کی آراء میں کئی مشترک نکات سامنے آتے ہیں۔ ایک جانب یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ قیامِ امن، عوام کے جان و مال کا تحفظ، آئینی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم، سیاسی مفاہمت اور بامعنی مذاکرات ہی دیرپا استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسائل کی درست تشخیص نہ ہونے، سیاسی بے اعتمادی، کمزور ادارہ جاتی روابط اور بعض پالیسی فیصلوں نے بحران کو مزید پیچیدہ بنایا ہے۔ ان مختلف آراء سے قطع نظر، اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ بلوچستان جیسے حساس اور اہم صوبے کے مسائل کا حل طاقت کے بجائے آئین، قانون، عوامی اعتماد، شفاف طرزِ حکمرانی اور جامع قومی مکالمے میں تلاش کرنا زیادہ پائیدار راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان کی سماجی ساخت، لسانی تنوع، جغرافیائی اہمیت، قدرتی وسائل، سرحدی حیثیت اور قومی سلامتی سے وابستہ پہلو اس صوبے کو دیگر علاقوں سے منفرد بناتے ہیں۔ اسی لیے یہاں ترقیاتی منصوبوں، معدنی وسائل، سرحدی تجارت، مقامی حکومت، روزگار، تعلیم اور سیاسی نمائندگی جیسے معاملات پر وسیع مشاورت اور مقامی آبادی کی مؤثر شمولیت اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بلوچستان کے مستقبل کا راستہ الزام تراشی، تلخی یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ سچائی، تحقیق، برداشت، آئینی بالادستی، سیاسی بصیرت اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر تمام فریق وسیع تر قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے مستقل مکالمے اور مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوں تو بلوچستان امن، استحکام، خوشحالی اور وفاق کی مضبوطی کی علامت بن سکتا ہے۔