مقامی ۱۴ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان اسمبلی: امن و امان، اغوا کاری اور لک پاس آتشزدگی پر ایوان میں گرما گرم بحث

کوئٹہ(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل )بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی، اغوا کے واقعات، لک پاس کسٹم وئیر ہاوس آتشزدگی، ترقیاتی فنڈز اور سرحدی تجارت سمیت اہم عوامی مسائل پر گرما گرم بحث کی گئی، جبکہ متعدد قراردادیں بھی منظور کرلی گئیں۔ اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ایک گھنٹہ دس منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔اجلاس کے آغاز پر بارکھان میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے تمام اراکین اسمبلی کو چھ جبکہ وزرا کو آٹھ سیکیورٹی گارڈز فراہم کیے ہیں اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ جو آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر بات کرے گا حکومت اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم ملک توڑنے کی بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اپوزیشن اور حکومتی اراکین نے بھی امن و امان کی خراب صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رکن اسمبلی صادق عمرانی نے کہا کہ صوبے میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے، اراکین اسمبلی اور عوام غیر محفوظ ہیں جبکہ بھتہ خوری بھی بڑھ رہی ہے۔ سابق وزیراعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان گزشتہ بیس برسوں سے جنگ کی کیفیت میں ہے اور مسئلے کا حل طاقت نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ انہوں نے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کے اغوا کی شدید مذمت بھی کی اجلاس میں لک پاس کسٹم وئیر ہاس میں آتشزدگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ رکن اسمبلی اصغر ترین اور رحمت صالح بلوچ نے دعوی کیا کہ آگ حادثاتی نہیں بلکہ جان بوجھ کر لگائی گئی جس سے تاجروں کا اربوں روپے کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا۔ اسپیکر اسمبلی نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر کمیشن تشکیل دے کر تیس روز میں رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے جبکہ سینئر کلکٹر کسٹم کو طلب کرکے اسمبلی کو بریفنگ دینے کی بھی ہدایت جاری کی گئی۔اجلاس کے دوران صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر علامتی واک آٹ کیا تاہم بعد ازاں وہ ایوان میں واپس آگئیں۔رکن اسمبلی اسد بلوچ نے پنجگور کے حلقہ پی بی 29 کے ترقیاتی فنڈز جاری نہ ہونے پر توجہ دلا نوٹس پیش کیا اور کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔حکومتی وضاحت کے بعد نوٹس نمٹا دیا گیا۔قلعہ سیف اللہ میں معدنیات کے لیے زمینوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر رکن اسمبلی مولوی نوراللہ نے توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مقامی مائن اونرز کے حقوق متاثر ہورہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے تفصیلات فراہم کیے جانے کے بعد یہ معاملہ بھی نمٹا دیا گیا۔دریں اثنا جماعت اسلامی کے صوبائی امیر ورکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے گبد بارڈر پر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں مقف اختیار کیا گیا کہ گبد بارڈر سے ماہانہ اربوں روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے لیکن وہاں پانی، بجلی، سڑک اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ ایوان نے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔اسی طرح رکن اسمبلی غزالہ گولہ کی جانب سے خواتین کو فنی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی فراہمی کے لیے مشترکہ قرارداد بھی پیش کی گئی، جس میں بلوچستان کے ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں خواتین کے لیے الگ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ادارے قائم کرنے کی سفارش کی گئی۔ ایوان نے قرارداد منظور کرلی۔جس پر اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے گورنربلوچستان کا حکم نامہ پڑھ کر اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا۔