کوئٹہ(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل )بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک پالیسی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر “تھوڑا ادھر اور تھوڑا ادھر خوش کرنے” کی پالیسی اب نہیں چل سکتی، بلکہ سیاسی قیادت کو خوف زدہ ہوئے بغیر دہشت گرد تنظیموں کا نام لے کر ان کی مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو عناصر پاکستان کے آئین کو تسلیم کرتے ہیں، حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے آج بھی تیار ہے، لیکن جو آئین کے منکر ہیں، ان کے خلاف ریاست کا اعلانِ جنگ ہے۔وزیر داخلہ نے اراکینِ اسمبلی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اراکینِ اسمبلی اور وزرا کی حفاظت کے لیے فراہم کردہ سیکیورٹی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو بعض اراکین کی جانب سے تنقید افسوسناک ہے۔ ضیا اللہ لانگو نے مزید کہا کہ بحیثیت قوم متحد ہوئے بغیر اس چیلنج کا مقابلہ ممکن نہیں، لہذا تمام سیاسی قوتوں، عوام اور ریاستی اداروں کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک آواز بننا ہوگا۔
