اداریہ ۱۴ جولائی ۲۰۲۶

بلوچستان، تاریخی شناخت اور آئینی انصاف کا تقاضا.

بلوچستان اس وقت ایک ایسے حساس مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں انتظامی فیصلے محض اضلاع اور ڈویژنوں کی تشکیل تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ تاریخی شناخت، قومی اعتماد اور آئینی حقوق سے جڑ چکے ہیں۔ اگر انتظامی حدود میں تبدیلی کے لیے کوئی واضح، شفاف اور قابلِ قبول اصول موجود نہ ہو تو متعلقہ آبادیوں میں تحفظات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ آج ایک طرف بلوچ سیاسی قیادت قلات ڈویژن کی تاریخی حیثیت کے خاتمے کے خلاف متحد ہو کر میدان میں موجود ہے۔ اور سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی زیرِ صدارت منعقدہ اجلاس میں قلات ڈویژن کی سابقہ حیثیت کی بحالی کا متفقہ مطالبہ سامنے آیا ہے، تو دوسری جانب پشتون حلقوں میں بھی یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ ان کے تاریخی جغرافیے، انتظامی تشخص اور قومی شناخت کو بتدریج محدود کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی بھی قوم کو یہ احساس ہو کہ اس کی تاریخی حیثیت کمزور کی جا رہی ہے تو اس کے نتائج محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی بھی ہوتے ہیں۔

اس تناظر میں سبی ڈویژن کا معاملہ بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پشتون سیاسی اور فکری حلقوں کا مؤقف ہے کہ سبی ڈویژن کے انتظامی خدوخال میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں اس کی تاریخی شناخت متاثر ہوئی اور اس کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ اسی طرح آج قلات ڈویژن کی حیثیت کے خاتمے پر جو ردِعمل سامنے آ رہا ہے، وہ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ تاریخ اور جغرافیہ محض سرکاری نوٹیفکیشن سے تبدیل نہیں ہوتے۔ ریاستِ قلات اور پشتون علاقوں، بالخصوص سبی اور اس سے منسلک تاریخی خطے مشترکہ ماضی کا حصہ ہیں۔ اس مشترکہ ورثے کے کسی بھی حصے کو نظرانداز کرنے یا اس کی تاریخی شناخت کو کمزور کرنے کا احساس مستقبل میں مزید سیاسی فاصلے پیدا کر سکتا ہے۔ جس طرح بلوچ قیادت قلات کے تاریخی تشخص کے تحفظ کو اپنا قومی فریضہ سمجھتی ہے، اسی طرح پشتونوں کے تاریخی اور انتظامی تشخص کے تحفظ کو بھی جائز قومی احساس کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ پشتون سیاسی قیادت اس نازک مرحلے پر وہ اتحاد اور یکجہتی پیدا نہیں کر سکی جس کی قوم کو ضرورت تھی۔ جماعتی اختلافات، ذاتی ترجیحات ، سیاسی تقسیم اور مانگی اور زیارت کے دل خراش واقعات نے ایک مشترکہ قومی مؤقف کو کمزور کیا ہے۔ اس کے باوجود وقت ابھی ہاتھ سے نہیں نکلا۔ پشتون سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں، قبائلی عمائدین، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو ایک متفقہ قومی ایجنڈا تشکیل دینا ہوگا تاکہ آئینی، جمہوری اور سیاسی ذرائع سے اپنے تحفظات مؤثر انداز میں پیش کیے جا سکیں۔ اسی طرح بلوچ قیادت کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ جس تاریخی انصاف کا مطالبہ وہ قلات کے لیے کر رہی ہے، وہی اصول سبی اور پشتون علاقوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونے چاہئیں۔ قومیتوں کی یکجہتی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب انصاف کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہو۔

بلوچستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک وسیع آئینی اور سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والے کوئٹہ اور قلات ریجن کی تاریخی و انتظامی حیثیت کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ تمام متعلقہ قومیتوں کے تحفظات کو سنا جا سکے۔ اگر پشتون سیاسی قیادت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ پشتون اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک نیا صوبہ ہی ان کے انتظامی اور آئینی حقوق کے تحفظ کا مؤثر راستہ ہے، تو یہ مطالبہ بھی آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری طریقۂ کار کے مطابق پیش کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ نئے صوبے کا قیام صوبائی اسمبلی میں قرارداد کے بعد قومی اسمبلی و سینیٹ میں آئینی ترمیم اور پارلیمانی منظوری ضروری ہے، اس لیے بلوچ سیاسی جماعتیں اراکین صوبائی اسمبلی اور وفاق کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں، خصوصاً قومی اسمبلی میں مؤثر نمائندگی رکھنے والی جماعتوں اور پنجاب کی سیاسی قیادت، پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے کسی بھی آئینی مطالبے پر سیاسی مصلحت کے بجائے قومی انصاف، وفاقی توازن اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں غور کریں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بلوچ اور پشتون اس دھرتی کے دو بڑے تاریخی بھائی ہیں۔ اگر بلوچ بھائی قلات کے تاریخی تشخص کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو پشتونوں کو بھی اس جائز مطالبے کی حمایت کرنی چاہیے، اور اگر پشتون سبی، کوئٹہ اور اپنے تاریخی جغرافیے کے تحفظ کی بات کرتے ہیں تو بلوچ قیادت کو بھی اسے اسی احترام سے سننا چاہیے۔ ایک دوسرے کے تاریخی، آئینی اور جمہوری حقوق کی حمایت ہی بلوچستان میں اعتماد، قومی ہم آہنگی اور پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔ تاریخ کو تقسیم کرنے کے بجائے اس کی حفاظت، اور قوموں کو مقابل لانے کے بجائے ایک دوسرے کے حقوق کے احترام کا راستہ ہی صوبے کے روشن اور پرامن مستقبل کی ضمانت ہے۔