اداریہ ۲۳ جون ۲۰۲۶

بجٹ سپلیمنٹس کی تقسیم: شفافیت کا تقاضا اور پالیسی سازوں کے لیے لمحۂ فکریہ

بلوچستان میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی منظوری کے بعد سرکاری سطح پر جاری کیے گئے خصوصی بجٹ سپلیمنٹس کی تقسیم نے صوبے کے صحافتی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی معاملہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اثرات محض اشتہارات اور تشہیری مہمات تک محدود نہیں بلکہ یہ صوبے میں اعتماد، شفافیت اور ریاستی پالیسیوں کے بارے میں عوامی تاثر سے بھی جڑا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔

بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جہاں احساسِ محرومی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نمائندگی کے سوالات ہمیشہ حساس نوعیت کے حامل رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر سرکاری وسائل کی تقسیم کے بارے میں شفافیت موجود نہ ہو تو چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ بھی بڑے سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ سپلیمنٹس کی حالیہ تقسیم کو محض ایک مالی یا انتظامی معاملہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی و صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے قدیم اخبارات، علاقائی زبانوں کے اخبارات اور صوبے کے اندر محدود وسائل کے باوجود صحافت کا چراغ روشن رکھنے والے اداروں کو نظر انداز کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ملک کے دیگر شہروں کے اخبارات کو سپلیمنٹس کیوں دیے گئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے عمل میں کوئی واضح، منصفانہ اور قابلِ احتساب پالیسی اختیار کی گئی تھی یا نہیں؟

پالیسی سازوں کو یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ بلوچستان میں میڈیا صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ اگر مقامی میڈیا خود کو نظر انداز شدہ محسوس کرے گا تو اس کے اثرات صرف اخباری صنعت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ صورتحال سرکاری بیانیے اور عوامی اعتماد کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ اس پورے معاملے کے پیچھے محض مالی، انتظامی یا تکنیکی عوامل کارفرما ہوں اور کسی قسم کی بدنیتی شامل نہ ہو، لیکن جب فیصلوں کے پس منظر اور معیار کے بارے میں معلومات فراہم نہ کی جائیں تو شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔ یہی شکوک بعد ازاں افواہوں، قیاس آرائیوں اور غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔

اس وقت ضرورت الزام تراشی کی نہیں بلکہ شفافیت کی ہے۔ حکومت بلوچستان، خصوصاً وزیراعلیٰ بلوچستان جن کے پاس وزارتِ اطلاعات کا قلمدان بھی ہے، کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائیں اور یہ واضح کریں کہ سپلیمنٹس کی تقسیم کن اصولوں کے تحت کی گئی، کن اداروں کو کیا مراعات دی گئیں اور اس عمل کی نگرانی کس سطح پر ہوئی۔

تحقیقات کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو ہدف بنانا نہیں بلکہ ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا ہونا چاہیے جو اب صحافتی اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ فیصلہ محض انتظامی نوعیت کا تھا، کسی مخصوص مالی مفاد کے تحت کیا گیا، یا پھر اس کے پس منظر میں کوئی ایسی سوچ موجود تھی جس کے دور رس اثرات صوبے کی میڈیا پالیسی اور سماجی ہم آہنگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

بلوچستان پہلے ہی مختلف سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں کوئی بھی ایسا اقدام جو محرومی، امتیاز یا عدم شفافیت کے تاثر کو تقویت دے، غیر ضروری انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ ریاستی اداروں اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے تمام معاملات میں نہ صرف انصاف کریں بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔

اگر حکومت واقعی آزاد، مضبوط اور ذمہ دار صحافت پر یقین رکھتی ہے تو اسے اس معاملے کو ایک تنقیدی آواز نہیں بلکہ اصلاحِ احوال کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ مضبوط بلوچستان کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک اس کی مقامی صحافت، علاقائی زبانیں اور عوامی نمائندہ ادارے خود کو نظام کا برابر کا شریک محسوس نہ کریں۔

آج سوال صرف چند سپلیمنٹس کا نہیں، بلکہ اس اعتماد کا ہے جس پر ریاست اور معاشرہ اپنے تعلقات کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے شفاف تحقیقات اور حقائق کو عوام کے سامنے لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔