مقامی ۱۲ مئی ۲۰۲۶

بابائے افغان عبدالرحیم خان مندوخیل؛ جدید پشتون نیشنلزم کے بانی کے عنوان سے ایک اہم فکری، سیاسی اور تربیتی سیمینار

کوئٹہ(ڈیلی صداقت ویب نیوز)پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کے زیرِ اہتمام بابائے افغان عبدالرحیم خان مندوخیل؛ جدید پشتون نیشنلزم کے بانی کے عنوان سے ایک اہم فکری، سیاسی اور تربیتی سیمینار کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت پی ایس او کے زونل سیکرٹری وارث افغان نے کی، جبکہ اس میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی، پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں، کارکنوں، طلبہ، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار کا مقصد نئی نسل کو بابائے افغان ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی سیاسی، فکری، قومی اور تنظیمی جدوجہد سے روشناس کرانا اور پشتون قومی تحریک کے نظریاتی خدوخال کو اجاگر کرنا تھا۔ سیمینار سے پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین استاد رضا محمد رضا، مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشن، جبکہ نظامت کے فرائض سینئر معاون سیکرٹری ایمل ساروان نے انجام دیے۔ سیمینار کے آغاز میں بابائے افغان ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی قومی، سیاسی اور فکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ زونل سیکرٹری وارث افغان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کو بابائے افغان کے سیاسی افکار، قومی نظریات، تنظیمی اصولوں اور جمہوری جدوجہد کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا، کیونکہ یہی فکر آج بھی پشتون قومی تحریک کی رہنمائی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں، اس لیے ان کی فکری اور سیاسی تربیت ناگزیر ہے تاکہ وہ قومی تحریک میں فعال، منظم اور مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین استاد رضا محمد رضا نے اپنے تفصیلی، فکری اور تاریخی خطاب میں پشتون افغان تاریخ، قومی تحریک، ترقی پسند قوم پرستی اور بابائے افغان ارواح شاد عبدالرحیم خان مندوخیل کی فکری و سیاسی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرحیم خان مندوخیل نے پشتون قومی تحریک کو ایک نئی نظریاتی سمت، فکری بنیاد اور سیاسی شعور عطا کیا۔ وہ صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک مکمل فکری مکتبہ? فکر تھے، جنہوں نے سیاست کو نظریہ، تنظیم، قومی شعور اور عملی جدوجہد کے ساتھ مربوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابائے افغان نے پشتون قومی تحریک میں نظریاتی کیڈرز کی تیاری، منظم سیاسی ڈھانچے، جمہوری مرکزیت کے اصول، تنظیمی نظم و ضبط اور قومی سیاست سے متعلق فکری و سیاسی اصطلاحات کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی جدوجہد نے پشتون قومی تحریک کو فکری پختگی، تنظیمی استحکام، سیاسی بصیرت اور جمہوری شعور فراہم کیا۔ نہوں نے مزید کہا کہ آج بھی پشتون قومی تحریک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بابائے افغان کے نظریات، سیاسی فکر اور تنظیمی اصول مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مرکزی سینئر سیکرٹری سید عبدالقادر آغا ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں قومی تحریکوں میں نظم و ضبط، سیاسی شعور، اجتماعی فکر اور تنظیمی وابستگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تمام کامیاب قومی و جمہوری تحریکوں نے قربانی، مسلسل جدوجہد اور مضبوط تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل کے طلبہ اور نوجوانوں کو سیاسی آگاہی، فکری تربیت، اتحاد اور منظم جدوجہد کے ذریعے اپنی قوم کے بہتر مستقبل، قومی بقا اور جمہوری حقوق کے حصول کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بابائے افغان عبدالرحیم خان مندوخیل نے پشتون قوم پرست جماعتوں اور سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شخصیت، سیاسی بصیرت، علمی استعداد اور عملی جدوجہد نے نہ صرف قومی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ ہزاروں سیاسی کارکنوں اور نظریاتی کیڈرز کی مثبت فکری و سیاسی تربیت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ بابائے افغان کی سیاسی فکر، قومی فلسفہ اور جمہوری جدوجہد آج بھی پشتون قومی تحریک کے لیے رہنمائی کا ایک مضبوط سرچشمہ ہے۔ سیمینار میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر بایزید روشن، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی نائب صدر قیوم وکیل، صوبائی سیکرٹری خوشحال کاکڑ، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز ندا سنگر، پروفیسر اسد ترین، سلیمان بازئی، محمود ریاض، ضلع بوری کے سیکرٹری مصطفیٰ کمال کاکڑ سمیت تنظیم کے صوبائی، علاقائی اور یونٹ ایگزیکٹوز نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بابائے افغان ارواح عبدالرحیم خان مندوخیل کے نظریات، قومی فکر، جمہوری سیاسی جدوجہد اور فکری ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک کو مزید منظم، فعال اور مؤثر بنانے کے لیے نوجوان نسل کو علمی، فکری اور سیاسی میدان میں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک باشعور، ترقی یافتہ، جمہوری اور قومی وحدت پر مبنی معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔