کوئٹہ(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل )عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نے کہا ہے کہ اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان فکرِ باچا خان کے تسلسل کے ساتھ نہ صرف پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں، بلکہ وہ خطے کے حالات اور ملکی سیاسی صورتحال میں پشتونوں اور تمام محکوم اقوام کی حقیقی ترجمانی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی پشتون افغان سوسائٹی کی پیداوار نہیں، بلکہ یہ مجاہدین، طالبان اور اب داعش کی شکل میں ریاستی سرپرستی میں پشتونخوا وطن پر مسلط کی گئی ہے۔مابت کاکا نے مزید کہا کہ پشتونخوا میں انتہا پسندی (ٹی ٹی پی)، غیر شائستہ سیاست (پی ٹی آئی) اور گالی بریگیڈ (پی ٹی ایم) کو فروغ دینے کے پیچھے ایک ہی قوت کارفرما ہے، جس کا مقصد باچا خان کے پیروکاروں کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 سے “ریاستِ مدینہ” کے نام پر ایک ایسا غیر سیاسی ٹولہ متعارف کرایا گیا جس نے سیاست سے شائستگی ختم کر کے گالم گلوچ کو رواج دیا اور یہ ٹولہ آج بھی ریاستی مشینری کی بدولت فیض یاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پشتونخوا جل رہا ہے مگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں نورا کشتی میں مگن ہیں، جو کہ انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔ اے این پی ہر سطح پر ایک منظم تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے اور وفاقی پارلیمانی جمہوری سیاست ہی کو تمام مسائل کا حل سمجھتی ہے۔
