مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم، پھر اچانک جنگ بندی اور اس کے بعد سامنے آنے والے بیانات نے عالمی سیاست کے مبصرین کو ایک نئے سوال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک طرف ایران اپنی مزاحمتی قوت، قومی خود اعتمادی اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکہ بھی اپنے مقاصد کے حصول اور علاقائی استحکام کے دعوے کر رہا ہے۔ جب دونوں فریق خود کو فاتح قرار دیں تو یہ سوال فطری طور پر جنم لیتا ہے کہ اصل کامیابی کس کی ہوئی اور اصل کھیل کیا تھا؟
بین الاقوامی سیاست میں اکثر جنگوں کا نتیجہ میدانِ جنگ سے زیادہ مذاکراتی میز پر طے ہوتا ہے۔ حالیہ بحران میں بھی متعدد علاقائی اور عالمی طاقتوں نے پس پردہ کردار ادا کیا۔ قطر، پاکستان، خلیجی ممالک اور یورپی حلقوں کی سفارتی سرگرمیوں نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ دنیا ایک بڑی تباہ کن جنگ سے بچنا چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تصادم کے باوجود دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے بلکہ مذاکرات کے نئے راستے کھلتے چلے گئے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے حالیہ بیان نے بھی اسی حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور سفارتی رابطوں کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور ایران۔امریکہ مذاکراتی عمل میں پاکستان کے ذکر نے یہ واضح کیا ہے کہ اسلام آباد خود کو صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی شراکت دار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
پاکستان کے اندر بھی اس پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بعض حلقے سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں مثبت تبصروں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں واقعی کسی بڑے تصادم کو روکنے میں کامیاب رہی ہیں تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک مختلف بیانیہ بھی موجود ہے۔ بعض تجزیہ نگار اس پورے تنازع کو “نورا کشتی” یا پہلے سے طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق محدود فوجی کارروائیاں، محتاط ردعمل، اور پھر فوری مذاکرات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تمام فریق مکمل جنگ سے گریز چاہتے تھے۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں اور اسے زیادہ تر سیاسی و عوامی تجزیے کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔
البتہ ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس بحران نے ایران کے اندر قومی یکجہتی کے جذبات کو تقویت دی ہے۔ حکومت کے ناقدین اور مختلف سیاسی طبقات میں بھی بیرونی دباؤ کے مقابلے میں قومی مفادات کے تحفظ کا احساس ابھرا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیرونی خطرات اکثر داخلی اختلافات کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں اور یہی صورتحال ایران میں بھی دکھائی دے رہی ہے۔
آنے والے دن اصل امتحان کا دور ہوں گے۔ اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں، پابندیوں میں نرمی آتی ہے اور ایران کو خطے میں نئے سفارتی و اقتصادی مواقع ملتے ہیں تو مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط تبدیل ہو سکتی ہے۔ توانائی کے ذخائر، تجارتی راستے اور علاقائی اتحاد نئی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں وہی ممالک فائدہ اٹھائیں گے جو مستقبل کے تقاضوں، اقتصادی تبدیلیوں اور سفارتی مواقع کو بروقت سمجھ سکیں گے۔
دنیا کی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ ایران۔امریکہ تنازع کا حالیہ باب بھی شاید اسی اصول کی ایک نئی مثال ہے۔ جنگ ختم ہو چکی یا صرف ایک وقفہ آیا ہے، اس کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن اتنا ضرور واضح ہے کہ خطے میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے اور آنے والے برس اس کے حقیقی اثرات کو آشکار کریں گے۔
