اداریہ ۲۹ جون ۲۰۲۶

اکثریت کی حکمرانی یا قومیتوں کی شراکت؟ — پارلیمان اور وفاق کے مستقبل کا بنیادی سوال

دنیا ہر سال عالمی یومِ پارلیمان اس عہد کی تجدید کے طور پر مناتی ہے کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام ہیں، قانون کی بالادستی ہی ریاست کی بنیاد ہے اور منتخب ادارے عوام کی اجتماعی امنگوں کے امین ہوتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر ایک بنیادی سوال بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ زیرِ بحث آنا چاہیے کہ کیا ہر پارلیمانی نظام لازماً حقیقی جمہوریت کی ضمانت ہوتا ہے؟ کیا محض عددی اکثریت کو فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دے دینا انصاف، مساوات اور قومی وحدت کی علامت ہے، یا پھر کثیرالقومی ریاستوں میں جمہوریت کا تصور اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے؟

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یک قومی اور کثیرالقومی ریاستوں کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ جہاں مختلف قومیتیں، زبانیں، تہذیبیں، تاریخیں اور جغرافیائی اکائیاں موجود ہوں، وہاں صرف آبادی کی بنیاد پر اقتدار کی تقسیم اکثر سیاسی عدم توازن کو جنم دیتی ہے۔ اگر ایک بڑی اکثریت ہمیشہ قانون سازی، وسائل کی تقسیم اور قومی پالیسیوں پر غالب رہے جبکہ چھوٹی قومیتیں مسلسل اقلیت میں رہیں تو ایسی جمہوریت رفتہ رفتہ وفاقی اشتراک کے بجائے اکثریتی غلبے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب پارلیمان اکثریت کے تابع ہو جائے تو اقلیتیں صرف نمائندگی سے نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے حقیقی عمل سے بھی محروم ہو جاتی ہیں، اور یہی احساسِ محرومی مستقبل کے سیاسی بحرانوں کی بنیاد بنتا ہے۔

جدید وفاقی نظام اسی تلخ تاریخی تجربے کا نتیجہ ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے مختلف زبانوں اور قومیتوں کو برابر آئینی حیثیت دے کر دنیا کا مستحکم ترین وفاق قائم کیا۔ بیلجیم نے فلیمنگ اور والون قومیتوں کے درمیان اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے داخلی استحکام حاصل کیا۔ کینیڈا نے کیوبیک کی قومی شناخت کو آئینی احترام دے کر اتحاد کو مضبوط بنایا، جبکہ امریکہ میں آبادی کے لحاظ سے منتخب ایوانِ نمائندگان کے ساتھ سینیٹ میں ہر ریاست کو مساوی نمائندگی دے کر وفاقی توازن برقرار رکھا گیا۔ یہ تمام مثالیں اس اصول کی تصدیق کرتی ہیں کہ مضبوط وفاق اکثریت کی دائمی حکمرانی سے نہیں بلکہ وفاقی اکائیوں کی مساوی شراکت سے قائم رہتے ہیں۔

فیڈریشن دراصل اکائیوں کی برادری کا نام ہے، نہ کہ کسی ایک اکثریت کی سیاسی بالادستی کا۔ اس تصور میں ہر وفاقی اکائی اپنی شناخت، وسائل، تاریخ اور آئینی مقام کے ساتھ برابر کی شریک ہوتی ہے۔ اگر پارلیمان میں بھی یہی فلسفہ کارفرما ہو، جہاں صرف آبادی نہیں بلکہ وفاقی اکائیوں کی مساوی حیثیت کو بھی فیصلہ سازی میں مؤثر کردار حاصل ہو، تو ریاست کے اندر اعتماد، ہم آہنگی اور استحکام مضبوط ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر اکثریت ہر مرحلے پر اقلیت پر اپنی عددی قوت مسلط کرے تو پارلیمان انصاف کا مرکز بننے کے بجائے طاقت کے عدم توازن کی علامت بن جاتی ہے، اور قومی وسائل کی تقسیم بھی تنازعات کا سبب بنتی ہے۔

جمہوریت کی اصل روح صرف ووٹوں کی گنتی میں نہیں بلکہ ہر قوم کے وقار، ہر اکائی کے احترام اور ہر شہری کے مساوی حقوق میں پوشیدہ ہے۔ آئین کا مقصد صرف حکومت بنانا نہیں بلکہ مختلف قومیتوں کے درمیان ایسا عادلانہ معاہدہ قائم کرنا ہے جس میں کسی کو محکوم اور کسی کو حاکم ہونے کا احساس نہ ہو۔ مضبوط پارلیمان وہ نہیں جو صرف اکثریت کی آواز بنے، بلکہ وہ ہے جو چھوٹی سے چھوٹی قومیت کو بھی یہ یقین دلائے کہ اس کی رائے، اس کے وسائل، اس کی ثقافت اور اس کے آئینی حقوق اتنے ہی محترم ہیں جتنے کسی بڑی اکائی کے۔

اکیسویں صدی کے بدلتے ہوئے سیاسی تقاضے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ کثیرالقومی وفاقوں میں پارلیمانی نظام کا ازسرِنو فکری جائزہ لیا جائے۔ ایسی پارلیمانی ساخت، جس میں وفاقی اکائیوں کی برابری، مشترکہ فیصلہ سازی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور آئینی شراکت کو بنیادی اصول بنایا جائے، نہ صرف جمہوریت کو حقیقی معنوں میں مضبوط کرے گی بلکہ وفاق کو بھی پائیدار استحکام عطا کرے گی۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ریاستیں اکثریت کی طاقت سے قائم ہو سکتی ہیں، لیکن انصاف، برابری اور رضاکارانہ شراکت ہی انہیں ہمیشہ کے لیے مضبوط اور متحد رکھتی ہے۔