اسلام آباد/کوئٹہ (ویب نیوز): تحریک تحفظ آئین پاکستان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال، سانحہ زیارت اور حالیہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان حکومت سے فوری استعفے کا مطالبہ اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے کہا کہ عوامی تحریک کا آغاز بلوچستان، بالخصوص سانحہ زیارت سے کیا جائے گا اور اپوزیشن کی مرکزی قیادت کوئٹہ جا کر شہداء کے لواحقین اور احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کرے گی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ زیارت، ہنہ اوڑک اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں اور سہولت کاروں کے ساتھ ساتھ انتظامی و سیکیورٹی ناکامیوں کا بھی احتساب کیا جائے۔ رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، آئین کی بالادستی، عدلیہ و میڈیا کی آزادی، لاپتہ افراد کی بازیابی، عوام کے آئینی حقوق کے احترام اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا مشترکہ وفد جلد بلوچستان اور آزاد کشمیر کا دورہ کر کے متاثرہ خاندانوں، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات کرے گا۔
