وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے نوجوان زرعی گریجویٹس کو اٹلی بھیجنے کا فیصلہ زیتون کی کاشت، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو چین کی ترقی کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے۔ تاہم اس پروگرام میں ایسے علاقوں کے نوجوانوں کو خصوصی ترجیح ملنی چاہیے جہاں زیتون کی کاشت پہلے ہی عملی کامیابی حاصل کرچکی ہے۔
اس حوالے سے بلوچستان کے جنوبی پشتون علاقوں، خصوصاً لورالائی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، زیارت، سنجاوی، کوئٹہ اور ملحقہ علاقوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بالخصوص لورالائی زیتون کی کاشت اور اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کے حوالے سے پاکستان کا ایک نمایاں مرکز بن چکا ہے۔ لورالائی سے پیدا ہونے والے زیتون کے تیل نے نیویارک، لندن، برلن اور دبئی کے بین الاقوامی مقابلوں میں اعزازات حاصل کرکے عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت قائم کی ہے۔
یہ حقیقت اس امر کی متقاضی ہے کہ اٹلی میں جدید تربیت کے لیے منتخب کیے جانے والے زرعی گریجویٹس میں ان علاقوں کو ان کی موجودہ زرعی صلاحیت، تجربے اور زیتون کی کاشت سے وابستگی کے مطابق مناسب نمائندگی دی جائے۔ اگر ایسے علاقوں کو نظرانداز کرکے انتخاب محض آبادی یا کسی غیر واضح معیار کی بنیاد پر کیا گیا تو اس سے علاقائی محرومی کا احساس پیدا ہوسکتا ہے۔
وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ انتخابی عمل میں علاقائی توازن اور ترجیحی انصاف کو یقینی بنائیں۔ اگر جنوبی پشتونخوا کے ان علاقوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی گئی تو فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، کیونکہ زیتون کی کاشت کے حوالے سے جن علاقوں نے پہلے ہی اپنی صلاحیت ثابت کردی ہے، ان کے نوجوانوں کو عالمی تجربے سے جوڑنا قومی زرعی مفاد میں ہے۔
لورالائی اور جنوبی پشتونخوا کے دیگر زیتون پیدا کرنے والے علاقوں کو اس پروگرام میں مناسب حصہ دینا کسی علاقائی رعایت کا مطالبہ نہیں بلکہ موجودہ زمینی صلاحیت، مقامی تجربے اور پاکستان کے مستقبل کے زرعی مفاد کا تقاضا ہے۔”
