پشتون اور بلوچ علاقوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اب محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن چکی ہے۔ بدامنی کے اسباب پر گفتگو کرتے ہوئے عموماً دہشت گردی، بیرونی مداخلت، کمزور حکمرانی اور وسائل کی کمی کو بنیادی عوامل قرار دیا جاتا ہے، لیکن اس پہلو پر نسبتاً کم توجہ دی گئی ہے کہ امن کے نام پر قائم بعض مقامی نظام اور کمیٹیاں اپنی مقررہ ذمہ داریوں کے مطابق کام کر بھی رہی ہیں یا نہیں۔ خیبرپختونخوا کے اضلاع بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے نئے معاہدے نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نئے انتظام کے تحت امن کمیٹیاں ازخود دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں کر سکیں گی بلکہ انسدادِ دہشت گردی محکمہ اور دیگر مجاز اداروں کی ہدایات پر معاونت کریں گی، جبکہ غیر قانونی سرگرمیوں، اختیارات کے غلط استعمال، سیاسی مداخلت اور شہریوں کو ہراساں کرنے کی روک تھام کے لیے بھی واضح شرائط طے کی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ امن کے لیے بنائے گئے کسی بھی نظام کی کامیابی کا انحصار صرف اسلحہ، افراد یا اختیارات پر نہیں بلکہ واضح قانون، جواب دہی اور اداروں کے درمیان باہمی اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر کسی امن کمیٹی کا رکن اپنی ذمہ داری سے تجاوز کرے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرۂ اختیار میں مداخلت کرے یا امن کے نام پر شہریوں کے لیے خوف کا باعث بن جائے تو ایسا انتظام امن کے بجائے بداعتمادی کو جنم دے سکتا ہے۔ خیبرپشتونخوا میں سامنے آنے والی صورتحال سے کم از کم یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ مقامی سطح پر قائم امن کے نظام کا وقتاً فوقتاً غیر جانب دارانہ جائزہ، ارکان کی ذمہ داریوں کا ازسرنو تعین، اسلحے کا مکمل ریکارڈ، سیاسی سرگرمیوں سے علیحدگی اور پولیس و دیگر مجاز اداروں کی نگرانی ناگزیر ہے۔ تاہم کسی فرد یا پورے نظام کو محض الزامات کی بنیاد پر مجرم قرار دینے کے بجائے شفاف تحقیق ہی وہ راستہ ہے جس سے حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق واضح کیا جا سکتا ہے۔
بلوچستان میں بھی اس تجربے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں پشتون اور بلوچ علاقوں میں طویل عرصے سے امن و امان کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھتے رہے ہیں اور بعض اوقات یہ تاثر بھی سامنے آتا رہا ہے کہ امن کے نام پر کام کرنے والے بعض افراد یا گروہوں کے کردار، اختیارات اور ذمہ داریوں کی مناسب نگرانی نہیں ہو رہی۔ ان سوالات کو سیاسی مخالفت، ذاتی دشمنی یا کسی مخصوص طبقے کے خلاف مہم بنانے کے بجائے ایک جامع اور غیر جانب دار تحقیق کا موضوع بنایا جانا چاہیے۔ حکومت بلوچستان، پولیس، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ صوبے میں موجود تمام امن کمیٹیوں، مقامی معاونتی نظام اور ان سے وابستہ افراد کے کردار، اختیارات، اسلحے، مالی وسائل اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں ذمہ داریوں کی نئی تقسیم عمل میں لائیں۔ اس عمل کا مقصد کسی کو کمزور کرنا نہیں بلکہ امن کے نظام کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ اگر خیبرپختونخوا کا حالیہ تجربہ اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی وضاحت اور نگرانی کا مؤثر ماڈل ثابت ہوتا ہے تو بلوچستان میں بھی اس سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ آخرکار پائیدار امن اسی وقت قائم ہوگا جب امن کے نام پر کام کرنے والا ہر فرد خود قانون، ضابطے اور جواب دہی کا پابند ہو؛ کیونکہ امن کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے اگر خود غیر واضح اختیارات اور کمزور نگرانی کا شکار ہوجائیں تو بدامنی کے خلاف جنگ مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
