کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کلی منگلہ کے رہائشی مرحوم حاجی عبداللہ جان بازئی کے فرزند ظفر خان بازئی کے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں فوری طور پر بازیاب کر کے ان کے اہلِ خانہ کی بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں آئے روز شہریوں کے اغوا، بدامنی، چوری اور جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن چکے ہیں، جبکہ حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔پریس ریلیز میں علاقہ تکتو کے منگلہ، سرغوڑگی، خولہ، کلی شبک تا سران کچھ اور گردونواح کے علاقوں پر قبضے کی ناروا کوششوں پر پشتونخوا نیپ اور مقامی عوام کی جانب سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ مذکورہ زمینیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مقامی عوام (بازئی قبائل) کی ملکیتی اراضی ہیں، لہذا کسی بھی فرد، گروہ یا بااثر عناصر کی جانب سے ان زمینوں پر قبضے کی کوشش نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوام کے بنیادی حقوق پر کھلم کھلا حملہ ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے، قبضہ مافیا کے خلاف فوری کارروائی کر کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بصورتِ دیگر عوام اپنے جمہوری اور آئینی حق کے تحت سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
