تازہ ترین ۱۶ ستمبر ۲۰۲۶

مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

کوئٹہ(ویب نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی ڈھال فراہم کرنا ہے۔ العربیہ کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے تعلقات تاریخی اور گہرے ہیں، مکہ معاہدے کے ذریعے انہیں باضابطہ شکل دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک شراکت دار ملک پر حملہ ہوا تو تینوں ممالک مل کر صورتحال کا فیصلہ کریں گے، تاہم معاہدے کی آپریشنل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے چین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی مفادات اور اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم ہیں۔ پاک ایران تعلقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے سے ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں پیچیدگی پیدا ہونے کی توقع نہیں، کیونکہ یہ معاہدہ جارحیت کے بجائے مشترکہ دفاع اور خطے میں امن و سلامتی کے لیے ہے۔