اسلام آباد (ویب نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کریں گے اور اسی کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔ عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بہت زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں اور اس کا مقصد اسلحے کی دوڑ میں شامل ہونا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں، تاہم ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔ سیاسی مقاصد کے تعین کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ سیاسی قیادت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور فوج و ریاست کے اہداف الگ الگ نہیں ہیں۔ افغانستان کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کا ذکر موجود ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ معاہدے کے تحت کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دفاعی وعدوں پر عملدرآمد کا طریقہ کار عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا اور فوجی و سکیورٹی معاملات سے متعلق معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ دفاعی تعاون پر مبنی ہے اور اس میں کوئی جارحانہ پہلو نہیں، جبکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات تاریخی اور گہرے ہیں جنہیں اب باقاعدہ معاہدے کی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کے چین کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں اور پاکستان کے چین کے ساتھ انتہائی اہم اور اسٹریٹجک روابط ہیں۔ علاقائی امن کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی سمیت خطے میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے اور تمام دوست ممالک کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات کی پالیسی کے باعث پاکستان ایک غیر جانب دار اور دیانت دار ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
