تازہ ترین ۱۶ ستمبر ۲۰۲۶

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 2.8 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی

کوئٹہ(ویب نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس میں تقریباً 40 ہزار 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مجوزہ کھیپ میں 20 ہزار ایم کے 84 اور 20 ہزار بی ایل یو 117 بم شامل ہوں گے، جبکہ دیگر جنگی سازوسامان بھی پیکیج کا حصہ ہے۔ معاہدے کی زیادہ تر رقم امریکی فارن ملٹری فنانسنگ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ اسی نوعیت کے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی ایک کھیپ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں گنجان آباد علاقوں میں ممکنہ بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر روک دی تھی، تاہم صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پابندی ختم کردی گئی۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ گزشتہ سال بھی اسرائیل کو 35 ہزار 500 سے زائد 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی تقریباً 3 ارب ڈالر کی الگ فروخت کی منظوری دے چکی ہے۔ امریکی ساختہ یہ بم غزہ اور لبنان میں استعمال کیے جانے کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ انسانی حقوق کے ماہرین نے گنجان آباد علاقوں میں ان کے استعمال سے ممکنہ شہری نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔