کوئٹہ(ویب نیوز) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صوبائی ترجمان کاشف حیدری نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں تقریباً 30 روپے فی لیٹر اضافہ عوام اور کاروباری طبقے پر ناقابل برداشت معاشی بوجھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے اشیائے ضروریہ، خوراک، سبزی، پھل، تعمیراتی سامان، ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوگا، جس کا براہ راست اثر عام صارف پر پڑے گا۔ بلوچستان جیسے وسیع و دور دراز صوبے میں طویل فاصلے اور زیادہ ٹرانسپورٹ اخراجات کے باعث مہنگائی کے اثرات مزید شدت سے محسوس ہوں گے۔ کاشف حیدری نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرکے مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، جبکہ تاجر پہلے ہی بجلی، گیس، ٹیکسوں اور دیگر کاروباری اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالیہ اضافے پر فوری نظرثانی، پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور چارجز کا ازسرنو جائزہ اور قیمتوں میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
