تازہ ترین ۱۲ ستمبر ۲۰۲۶

آخری دہشت گرد تک جنگ جاری رہے گی، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے: وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ( سید سردار محمد خوندئی )
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کی موجودگی تک جنگ جاری رہے گی، دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت مکمل طور پر متفق اور یکسو ہے، اس معاملے میں کوئی ابہام یا کنفیوژن نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں قومی میڈیا کے اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبے کی مجموعی صورتحال، امن و امان، ترقیاتی عمل، معدنیات اور سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کسی صورت بات چیت نہیں ہوگی۔ سکیورٹی فورسز مشکل حالات میں فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں بیٹھ کر پورے بلوچستان کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں، اگر نئے صوبے بنتے ہیں تو وہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی معاہدے کا انہیں کوئی علم نہیں، حکومت میں تبدیلی کا فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی، جب تک وہ منصب پر ہیں عوام کی خدمت جاری رکھیں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان سے اب تک 11 لاکھ افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کو واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ لاپتہ افراد کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو کبھی کبھار درست تناظر کے بغیر پیش کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کا دعویٰ نہیں کر سکتا لیکن ماضی کے مقابلے میں اس میں واضح کمی آئی ہے، تمام سرکاری محکموں اور تعلیمی اداروں میں میرٹ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ ترقیاتی منصوبوں کو ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منصوبہ بندی و ترقی، معدنیات و وسائل اور محکمہ داخلہ کی جانب سے اہم بریفنگز دی گئیں، جن میں سیف سٹی منصوبے، پروونشل ایکشن پلان، پولیس اصلاحات اور لیویز کے پولیس میں انضمام پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔