کوئٹہ (ویب نیوز) افغانستان میں قیامِ امن کے لیے امریکا کے سابق خصوصی نمائندے زلمے خلیلزاد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مشکل مرحلہ گزر چکا ہے اور امریکا کو اب اپنی توجہ عصر حاضر کے اہم خطرات اور چیلنجز پر مرکوز کرنی چاہیے۔ 11 ستمبر کے واقعات کی 25ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان حملوں نے امریکی قومی حکمت عملی تبدیل کردی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی حکمت عملی کا مرکزی محور بن گئی۔ خلیلزاد کے مطابق امریکا نے اس جنگ میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور القاعدہ کو بڑی حد تک کمزور کیا، تاہم اب چین کا بڑھتا ہوا اثر، مصنوعی ذہانت کا انقلاب، یورپ، روس اور بھارت کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کی بدامنی اہم چیلنجز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین دنیا کی غالب طاقت بننے کی کوشش کررہا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت امریکا اور چین کے درمیان طاقت کے توازن اور مستقبل کی جنگوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
