تازہ ترین ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

طاقتور مصنوعی ذہانت کو تباہی پھیلانے کیلئے جسمانی اختیار ضروری نہیں، جیفری ہنٹن

کوئٹہ (ویب نیوز) مصنوعی ذہانت کے گاڈ فادر اور نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 10 برس میں مصنوعی ذہانت کے باعث پوری انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد خطرہ ایک غیر معقول اندازہ نہیں، تاہم کسی کے لیے بھی اس خطرے کی درست شرح بتانا ممکن نہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانوں نے اس سے قبل ایسی مخلوق نہیں بنائی جو مستقبل میں ان سے زیادہ ذہین ہوسکتی ہو، اس لیے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ نتائج کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ جیفری ہنٹن کے مطابق مصنوعی ذہانت سے خطرے کو صرف ایک فیصد سمجھنا بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہوگا، جبکہ 10 فیصد خطرے کا اندازہ بھی نامعقول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت کو دنیا میں تباہی پھیلانے کے لیے حقیقی دنیا میں جسمانی اختیار حاصل ہونا ضروری نہیں، بلکہ وہ انسانوں سے بات چیت کے ذریعے بھی بڑے پیمانے پر افراتفری پیدا کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی خطرناک حیاتیاتی اور کمپیوٹر وائرس تیار کرنے، بڑے پیمانے پر سائبر حملے کرنے اور دیگر ایسے نقصانات کا باعث بن سکتی ہے جن کا فی الحال اندازہ لگانا مشکل ہے، جبکہ سب سے اہم چیلنج مصنوعی ذہانت کو اس انداز میں تیار کرنا ہے کہ وہ انسانوں کے لیے نقصان دہ مقاصد اختیار نہ کرے۔