تازہ ترین ۱۰ ستمبر ۲۰۲۶

مصنوعی ذہانت اگلے 10 سال میں انسانیت کو ختم کرسکتی ہے، جیکب کاکسن

کوئٹہ (ویب نیوز) مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنی اینتھروپک کے مرکزی محقق جیکب کاکسن نے استعفیٰ دے کر خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اگلے دس سال میں انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جیکب کاکسن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ایسی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہیں جو مستقبل میں انسانوں کے قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام پہلے ہی بعض پیچیدہ کام انجام دے رہے ہیں اور مستقبل میں اہم بنیادی ڈھانچے کو ہیک کرنے، خطرناک حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے اور دیگر بڑے نقصانات کا سبب بننے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔ جیکب کاکسن کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار انتہائی تیز ہے، چند سال پہلے یہ انسانوں کی معاونت تک محدود تھی جبکہ اب یہ کئی شعبوں میں انسانوں کی جگہ لینے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو خود اپنی تحقیق اور ذہانت میں اضافے کے لیے استعمال کیا گیا تو ذہانت میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے اور ایسی انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت وجود میں آسکتی ہے جو انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور سائبر حملوں سے متعلق پیش رفت نے لوگوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ یہ محض تشہیری دعویٰ نہیں بلکہ ایک حقیقی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے۔