پاکستان ۵ مئی ۲۰۲۶

ون کانسٹیٹیوشن پراجیکٹ میں میرا کوئی اپارٹمنٹ یا خاندان کے فرد کی کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے،خواجہ سعد رفیق کی وضاحت

اسلام آباد(صداقت انٹرنیشنل نیوز )مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما،سابق وزیر خواجہ سعد رفیق نے وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد میں ون کانسٹیٹیوشن پراجیکٹ میں شراکت داری یا عمارت میں کچھ اپارٹمنٹس کی ملکیت مجھ سے منسوب کرنیکی سوشل میڈیا مہم چلائی جا رہی ہے،میں نے پہلے بھی واضح کیا ہے کہ اس منصوبہ میں میرا کوئی اپارٹمنٹ یا کسی خاندان کے فرد کی کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے،میرے خلاف اس کے بعد اگر سوشل میڈیا پر غلط مہم جاری رکھی گئی تو قانونی کارروائی کریں گے۔پیر کو اپنے جاری وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ 9 اپریل کو ایک صحافی کی ٹویٹ کے جواب میں ایکس پر پہلے ہی وضاحت کر چکا ہوں،الزامات لگانے والوں میں پی ٹی آئی کے بعض کلٹ فالورز جنکی نظر میں انکے سوا ساری دنیا کرپٹ اور جھوٹی ہے،پی ٹی آئی کے مخالف کلٹ فالورز یا آن ڈیوٹی اکانٹس جنھیں تکلیف ہے کہ نقصانات اٹھانے کے باوجود میں پی ٹی آئی مخالف انتقامی مہم کی حمایت کیوں نہیں کرتا ؟،بطور مین سٹریم سیاستدان ایران کیخلاف امریکی جارحیت کی کھلی مخالفت کو ناپسند کر نے والے عناصر اور پارسائی کے زعم میں مبتلا ذہنی مریض جو دوسروں پر بہتان لگا کر خوشی محسوس کرتے ہیں،پاکستان سے باہر جعلی ناموں سے بنائے گئے آن ڈیوٹی جعلی اکانٹس ، ریاست پاکستان اس کے اداروں اور محبان پاکستان کو بدنام کرنیکی ڈیوٹی پر مامور بوٹس اس کام میں پیش پیش ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ون کانسٹیٹیوشن میں میرا یا میرے خاندان کا کوئی اپارٹمنٹ نہیں ہے نہ ہی میری یا میرے خاندان کی اس پراجیکٹ میں کوئی سرمایہ کاری ہے، ان ٹاورز میں میرے بعض جاننے والوں اور احباب کے اپارٹمنٹس ضرور ہیں ، ان کی سرمایہ کاری ان کو مبارک ہو۔انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے حوالہ سے بعد از تحقیق میری ذاتی رائے بہت واضح ہے کہ حکومت سی ڈی اے کو پہنچا ئے گئے نقصان کی بمعہ منافع تلافی کیلئے ہر قانونی راستہ اختیار کرے،اپارٹمنٹس کے تصدیق شدہ اور مکمل ادائیگی کر چکنے والے مالکا ن کے بنیادی حقوق اور سرمایہ کاری کا قانون اور اصول کے مطابق تحفظ کیا جائے،سی ڈی اے کو اس زیر تعمیر عمارت کے پلاٹ کی قیمت کی عدم ادائیگی کے باوجود اسکی تعمیر اور فروخت نہ روکنے والے ریگولیٹرز اور انکے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ قوی امید ہے کہ حکومت فریقین کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کرے گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔اس مفصل وضاحت کے بعد اگر کسی اکانٹ سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا تو ہم اسکے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔