دنیا ۱۵ مئی ۲۰۲۶

امریکی پابندیوں اور ایندھن بحران سے کیوبا اندھیروں میں ڈوب گیا، شدید لوڈشیڈنگ پر احتجاج

ہوانا (روزنامہ صداقت انٹرنیشنل کوئٹہ) امریکی پابندیوں اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث کیوبا اس وقت بدترین توانائی بحران کا شکار ہے، جہاں ملک کے بڑے حصے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں اور کئی علاقوں میں روزانہ 19 گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی اطلاعات ہیں۔ کیوبا کے وزیرِ توانائی نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ملک کے پاس پٹرول، ڈیزل اور تیل کے ذخائر تقریباً ختم ہوچکے ہیں اور حکومت صرف مقامی گیس اور خام تیل پر انحصار کر رہی ہے، جو قومی ضروریات پوری کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ حکام کے مطابق امریکی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باعث بیرونِ ملک سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے بجلی کا نظام شدید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ کیوبا کے صدر نے صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے اسے “توانائی کا محاصرہ” قرار دیا، جبکہ ہوانا اور دیگر شہروں میں عوام نے مسلسل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر مظاہرے اور نعرے بازی کی۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے کیوبا کیلئے 100 ملین ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم امداد کی تقسیم کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔