کوئٹہ(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل کوئٹہ)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین، سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی اور دیگر قائدین نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ ابتر صورتحال نے ہر محب وطن پاکستانی کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور غیر سنجیدہ فیصلوں کی وجہ سے ملک 71 جیسے حالات کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں انتقامی سیاست اور ہٹ دھرمی نے قومی وحدت کو تقسیم کر دیا ہے۔رہنماں نے زور دیا کہ ملک کو درپیش معاشی اور امن و امان کے بحران سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی و علاقائی جماعتیں اپنے مفادات کو پیچھے رکھ کر ملکی استحکام کے لیے متحد ہوں اور آزادانہ داخلہ و خارجہ پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ انہوں نے پاک افغان تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین کشیدگی خطے کی معیشت اور سفارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے، لہذا تمام متنازعہ معاملات کو اعلی قیادت باہمی مذاکرات اور تحمل سے حل کرے۔ طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ ہر جنگ کا اختتام بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔جے یو آئی نظریاتی کے رہنماں نے وزیر دفاع کے بیانات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں “بے سروپا” قرار دیا اور کہا کہ ایک طرف وہ ترامیم کے حق میں ووٹ دیتے ہیں اور دوسری طرف ان پر تنقید کرتے ہیں، جو کہ تضاد ہے۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے قرضوں اور بین الاقوامی اداروں کی ایما پر روز نئے ٹیکسوں کے نفاذ کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ ان اقدامات کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں اور تاجر طبقہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہے، جو کہ ایک انتہائی تشویشناک عمل ہے۔
