(سید سردار محمد خوندئی )
عالمی یومِ خواندگی کے پرمسرت موقع پر محکمہ تعلیم بلوچستان نے صوبے میں تعلیمی انقلاب کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تاریخی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
سیکرٹری تعلیم بلوچستان لعل جان جعفر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہر بچے کو قلم اور کتاب دینا ہے، کیونکہ تعلیم صرف حق نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی ترقی کی ضمانت ہے۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں چار بڑے انقلابی اقدامات کیے گئے ہیں:
بند اسکولوں کی بحالی: صوبے بھر میں طویل عرصے سے بند پڑے 3,800 سرکاری اسکولوں کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے، جس سے ہزاروں طلبہ کو اپنے گاؤں اور علاقے میں ہی تعلیم کی سہولت میسر آگئی ہے۔
اسکول واپسی مہم میں ریکارڈ کامیابی: صوبے بھر میں چلائی گئی خصوصی مہم کے نتیجے میں ریکارڈ 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد آؤٹ آف اسکول بچوں کو دوبارہ علم کی روشنی سے جوڑا گیا ہے۔
میرٹ پر 15,000 اساتذہ کی بھرتی: معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر 15 ہزار نئے اساتذہ کی بھرتی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
جدید دور سے ہم آہنگی: روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب میں آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم کو شامل کر دیا گیا ہے۔
اس موقع پر سیکرٹری تعلیم لعل جان جعفر نے کہا کہ “تعلیم کے شعبے کو ایک مقدس موقع سمجھ کر اس عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا کہ قوم کے بچے دورِ جدید میں علم کے زیور سے آراستہ ہوں اور جدید ٹیکنالوجی سے پوری طرح واقف ہوں۔ اس بنیاد پر ہمیں اس کام میں مزید ترقی اور بہتری لانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان حکومت کا نعرہ ہے “تعلیم سب کے لیے، روشن بلوچستان سب کے سنگ” اور اس روشن مستقبل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
