نیویارک(ویب نیوز) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کا نقشہ زیادہ درست جغرافیائی تناسب کے ساتھ دکھانے کے لیے نئی قرارداد منظور کرلی، جس کے حق میں 164 ممالک نے ووٹ دیا جبکہ امریکا نے مخالفت کی۔ قرارداد میں ’’مساوی زمین‘‘ نقشے کی حمایت کی گئی ہے، جس میں افریقہ، لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور اوشیانا کے رقبے کو روایتی مرکیٹر نقشے کے مقابلے میں زیادہ درست انداز میں دکھایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ مرکیٹر پروجیکشن کے بجائے نئے نقشے کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ماہرین کے مطابق 1569 میں تیار کیا گیا مرکیٹر نقشہ سمندری سفر کے لیے مفید تھا تاہم اس میں شمالی علاقوں کو ان کے اصل رقبے سے بڑا دکھایا جاتا ہے جبکہ خط استوا کے قریب واقع خطے نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔ ’’مساوی زمین‘‘ نقشہ 2018 میں تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد دنیا کے براعظموں کے رقبے کو زیادہ درست تناسب سے پیش کرنا ہے۔ قرارداد ٹوگو نے پیش کی، جبکہ امریکا نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو نقشوں کے بجائے دنیا کے حقیقی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ فرانس نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے نئے نقشے کے استعمال کا اعلان کیا ہے۔
