مقامی ۱۵ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان, کلسٹر بجٹ کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز سے واپس، پرانا نظام بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

کوئٹہ(روزنامہ صداقت انٹرنیشنل کوئٹہ)حکومتِ بلوچستان کے محکمہ سکول ایجوکیشن نے ایک اہم فیصلے کے تحت کلسٹر بجٹ کے حوالے سے ڈپٹی کمشنرز کو دیے گئے اختیارات فوری طور پر واپس لے لیے ہیں۔ سیکرٹری سکول ایجوکیشن لال جان جعفر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، 7 جنوری 2026 کا وہ نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے جس کے تحت بجٹ کے اخراجات کے اختیارات ڈپٹی کمشنرز کو تفویض کیے گئے تھے۔ اب پرانے طریقہ کار کے مطابق تمام خریداری اور فنڈز کا استعمال پیرنٹ ٹیچر سکول مینجمنٹ کمیٹی (PTSMC)، لوکل ایجوکیشن کمیٹی (LEC) اور لوکل ایجوکیشن پروکیورمنٹ کمیٹی (LEPC) کے ذریعے رائج قواعد و ضوابط کے تحت کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن کے تحت ہر کلسٹر ہیڈ اپنے ماتحت اسکولوں کو دیے گئے فنڈز کی تفصیلات اسکول کے مین گیٹ پر آویزاں کرنے کا پابند ہوگا۔ مزید برآں، جن اسکولوں میں بچوں کا داخلہ صفر (Zero Enrollment) ہے، ان کے فنڈز 10 دن کے اندر محکمہ خزانہ کو واپس جمع کرائے جائیں گے۔ ڈیجیٹل مردم شماری (Digital Census) مکمل نہ کرنے والے اسکول بھی فنڈز کے استعمال کے اہل نہیں ہوں گے۔ تمام خریداریاں اوپن ٹینڈر کے ذریعے ہوں گی اور کوٹیشن یا غیر رسمی طریقوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔سیکرٹری تعلیم نے واضح کیا ہے کہ مالی بے ضابطگیوں، فنڈز کے غلط استعمال یا غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاران کے خلاف ‘بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011’ کے تحت کارروائی کی جائے گی، جس میں ملازمت سے برطرفی اور مالی نقصانات کی وصولی جیسی بڑی سزائیں شامل ہیں۔ غیر فعال اسکولوں کو کوئی بجٹ نہیں دیا جائے گا اور تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ (DEG) اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) ہفتہ وار بنیادوں پر مانیٹرنگ رپورٹ سیکرٹری تعلیم کو پیش کرنے کی پابند ہوں گی۔